|
پختونخواہ کی محبت بٹاگرام کے ہر گوشے سے پھوٹتی ہے۔ آپ کسی سے بھی بات کریں، وہ خود کو ہزارہ کا نہیں پختونخواہ کا باشندہ بتاتا ہے۔ یہاں کا پرانا مطالبہ ہے کہ بٹاگرام ، کوہستان اور شانگلہ کو ملا کر ایک الگ اباسین ڈویژن بنا دیا جائے۔ یہ مطالبہ صوبہ ہزارہ کی تحریک کے مقابلے میں ایک اہم حربے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ اگرچہ بٹاگرام میں ووٹوں کا فیصلہ جماعتوں کے حق میں نہیں بلکہ اپنے قبیلے اور خاندان کے رجحان کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، لیکن یہاں سے خیبر پختونخواہ اسمبلی کے ممبر تاج محمد ترند پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ شہر کے درمیان میں ایک چھوٹی سی پہاڑی پر بنے گھر کے سامنے بیٹھ کر تاج محمد نے جو تجزیہ کیا اس کا لب لباب یہی تھا کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک در حقیقت میاں نواز شریف کو نقصان پہنچانے کے لیے ہے۔ ‘ جو لوگ اپنی نشستیں ہار چکے ہیں، شکست کے بعد ہزارہ کی محبت میں مبتلا ہوگئے ہیں’ تاج محمد ترند نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا۔
احسان نسیم بٹاگرام سے ایک اخبار نکالتا ہے۔ صحافی ہونے کے ناطے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ واقعات کی درست رپورٹنگ کرے۔ احسان نے بتایا کہ جب یہاں صوبہ ہزارہ تحریک کے قائد بابا حیدر زمان آئے تو لوگ انہیں روکنے کے لیے سڑک کے کنارے اکٹھے ہوگئے، اس منظر کی تصویر مانسہرہ سے شائع ہونے والے اخبار میں اس طرح دی گئی کہ ‘لوگ بابا حیدر زمان کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں’، اور احسان کے اخبار میں اس سرخی کے ساتھ چھپی کہ اس ‘بٹا گرام کے لوگ بابا حیدرزمان کے خلاف احتجاجا سڑک پر نکل آئے ہیں’۔ ایک ہی تصویر کی دو مختلف انداز میں اشاعت یہ ثابت کرنے کے لے کافی ہے کہ بہت سے لوگ جن کا کام ہی غیر جانبداری ہے، جذبات کی رہ میں بہے جارہے ہیں۔ احسان نے یہ بھی بتایا کہ اس کی ملاقات صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین سے بھی ہوئی تھی جس میں وزیر موصوف نے پیش کش کی تھی اس کے اخبار کے اخراجات صوبائی حکومت اٹھا سکتی ہے، لیکن یہ بوجھ شاید احسان نہیں اٹھا سکا۔ صحافت میں در آنے والا یہ تعصب اتنا بڑھ چکا ہے کہ مانسہرہ کا اخبار احسان کے خلاف اداریہ لکھ مارتا ہے اور احسان اپنے اخبار میں وضاحت چھاپتا ہے کہ مانسہرہ کا اخبار حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔
احسان ہزارہ والوں سے تنگ تھا اور اپنوں سے بھی کچھ خوش نہیں تھا۔ اس نے بتایا کہ بابا حیدر زمان بٹاگرام سے کچھ فاصلے پر ایک جگہ خطاب کرنے کے لیے آئے تو میں بھی ان کی کوریج کے لیے چلا گیا۔ اس کا وہا ں جانا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھا کہ احسان، تحریک صوبہ ہزارہ کا حصہ بن چکا ہے۔ بس اتنی سی بات پر اسے موبائل پر پیغام مذمتی پیغام ملنے لگے اور اس کا اگلا دن لوگوں کو وضاحتیں پیش کرتے ہوئے ہی گزرا۔
بٹاگرام ہزارہ میں ہے، لیکن بٹاگرام والے پختون خواہ میں رہتے ہیں۔ ان کا جوابی مطالبہ ہے کہ پشتو بولنے والوں پر مشتمل ایک الگ ، اباسین ڈویژن بنا دیا جائے۔ ایک ایسا ڈویژن جو ‘ہزارہ وال’ اثرات سے ‘پاک ’ ہو۔ اس مطالبے کے پیچھے مقامی عدم تحفظ کم اور عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست زیادہ کارفرما ہے۔ اس مطالبے کی منظوری کی صورت میں عوامی نیشنل پارٹی کو قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی چھے نشستیں نظر آرہی ہیں۔ اس مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ تحریک صوبہ ہزارہ ایک پختون مخالف تحریک بن کر سامنے آئے اور علاقے کے پختون اپنے ہم نسلوں کے ساتھ ملنے کی کوشش میں ہزارہ وال کو خود سے دورکرلیں۔
(جاری ہے)
|