Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول










خصوصی مضامین
  • ہم جنہیں ر سم دعا یاد نہیں!!
  • اے خیر کے طا لب آگے بڑھ
  • ”معصوم گنہگار “
  • نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر .....سائنسی بنیادوں پر آبی وسائل کی حفاظت ۔ ۔ ۔ ۔ وقت کا تقاضا
  • سہراب خان گوٹھ میں مفت طبی کیمپ اور چھپر اسکول کا افتتاح

  • مزیدکالم














    ”معصوم گنہگار “

    خصوصی مضامین

    تاریخ اشاعت : Tuesday 20th of July 2010 یہ کالم 200 دفہ پڑھا جا چکا ہے 


    قلم وقرطاس (صبغت اللہ ورک)


    تمام برائیوں کا ذمہ دار ججوں ، صحافیوں اور جرنیلوں پر مشتمل ٹرائیکا ہے اور یہ ہی ٹرائیکا پاکستانی قوم کی بدبختی کا موجب بھی ہے۔ یہ خلاصہ ہے اس ساری گفت وشنید کا جو حال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی میں کی گئی اور جو ایک قرار داد کی صورت میں منتج ہوئی۔ اسی موقع پر بھانت بھانت کی بولیوں والے سیاسی ریوڑوں کا عظیم اتحاد بھی دیکھنے کو ملا اور یوں محسوس ہوا جیسے ہم تاریخ کے اس موڑ تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے ہر شاھراہ ترقی کی منرل تک سفر کرتی ہے ۔ جہاں سے ہر راستہ منزل آشنا کر تا ہے اور جہاں سے ہر پگڈنڈی فردوس بریں کا عنوان نظر آتی ہے۔

    یقینا کچھ تو غیر معمولی تھا ور دستور زمانہ سے ھٹ کر تھا کہ اسمبلی میں براجمان ہر چہرہ پریشان ہر آنکھ نم دکھائی دے رہی تھی۔ آہ وبکا کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جو شروع ہو چکا تھا ۔ ہر فرد مغموم ہر چہرہ محکوم نظر آرہا تھا۔قوی اعصاب اور اکھڑدماغ سیاستدان اچانک سے نہایت زچ نظر آنا شروع ہو گئے۔ دھاڑتے شیر وں کی بہادری و شجاعت گھن آلود نظر آئی اور اس پر مستزاد کہ ہر آنکھ اشکباز تھی۔ حاضرین انگشت بدندان جبکہ ناظرین غرق حیراںتھے اور ہر فر د سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ کیا وجہ ہوئی کہ رستم و سہراب رو بخاک نظر آئے ۔جری جوانوں کا پورا غول ہزیمت کا نمونہ بن گیا۔ ن لیگ کے شیروں سے ق لیگی دلیروں تک اور پیپلز پارٹی کے جیا لوں سے موسمی بٹیروں تک سبھی یک جان یک زبان نظر آئے۔ پوری قوم دہشت گردی کے بھنور میں محصور ہے، بے روز گاری کا عفریت وسائل کو نگل رہا ہے ، بحرانوں کا سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے، خاندان اجڑ رہے ہیں ، عوام آئے اور بجلی کے حصول میں بے آبرو ہو رہے ہیں،پٹرول اور گیس کی بڑھتی قیمتیں ہر آن جینا دو بھر کر رہی ہیں ، چینی نا پید ہوتی ،پانی نایاب ہوتا نظر آرہا ہے اور یہ سلسلہ چند لحمے پہلے کا نہیں بلکہ یہ تو ایک ذلت ومسکنت کا پورا سفر ہے جس کے یہ خدوخال ہیں ۔ مگر پوری ملکی تاریخ ایسے کسی شاہکار کے مشاہدے سے محروم ہے جو حالیہ دنوں میں پنجاب اسمبلی میں دیکھنے کو ملا ۔ عوامی خون پسینے پر پلتے ہوئے عوامی نمائندوں نے کبھی کسی بھی مسئلے پر خواہ وہ کسی بھی اہمیت کا حامل ہو سوائے ذاتی مفاد کے کبھی سنجیدگی اور متانت کا اظہار کرنے کی زحمت نہیں کی۔ سوال کیجئے جناب دہشت گردی سے کب نجات ممکن ہو پائے گی؟ جواب ملے گا تیس سال کا بویا دنوں میں کاٹنا ممکن نہ ہے۔ دریافت کیجئے محترم بجلی کب میسر آئے گی ؟ کہ اس کی غیر موجودگی معیشت تباہ اور شب و روز کا سکون غارت کیئے ہوئے ہے تو جواباً عرض کیا جائے گا کہ ڈیموں سے ضروری ہمارا حکومت میں رہنا ہے کیونکہ صوبے متنفق نہیں اور ان کے اس اختلاف میں ہی ہماری بقا ہے۔ پوچھیئے جناب عالیٰ آٹے چینی کا کچھ حال سنا دیجئے تو فرمایا جائے گا کہ نان ایشوز کو ایشوز بنایا جا رہا ہے ۔ اگر حکومت آٹے اور چینی چوروں کے پیچھے بھاگے گی تو دہشت گردوں سے کون نبرد آزما ہو گا اور جمہوریت کی پاسبانی کون کر یگا ۔ انواع واقسام کی تو جیہات سے مزین اذھان سے مسلح اس سیاسی طبقے نے ہمیشہ سے ہی عام آدمی کے مسائل سے اغماض برتا ہے ۔ اور المیہ یہ ہے ہر وہ شخص جو اسے اصلاح احوال کی بات کرے اور وہ بات خواہ کتنی ہی عقل و دانش کا مرقع ہو اور وہ فرد خواہ کسی بھی نوع سے تعلق رکھتا ہے وہ جمہوریت کا دشمن اور آمروں کا آلہ کار ہے ۔

    تصادم کی حالیہ فضا بھی اسی خاص انداز فکر اور ذہنی بیمارگی کا ایک شاخسانہ ہے ۔ یہ کہنا مقصود ہرگز نہ ہے کہ میڈیا سے منسلک لوگ کا ملیت کا نمونہ ہیں اور کسی ضابطہ اخلاق کے پابند نہیں مگر شاید غلطی وہاں ہوتی ہے جب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ قلم وکتاب کے وارث لوگ قصیدہ گوئی اور نغمہ سرائی کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں اور خود کو یک لخت مقدس قبیلہ گردانتے ہوئے تنقید و تنقیص سے ماورا سمجھ لیا جاتا ہے ۔ اب تک 47کے قریب ارکان سینٹ ، قومی وصوبائی اسمبلی اور کابینہ کے ارکان تک جعلسازی کے مرتکب قرار دیئے جائے چکے ہیں اور ہر لحظہ اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جعلسازوں کے اس رسالے میں سر فہرست مسلم لیگ نواز ہے جبکہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ق)اور جمعیت علماءاسلام سمیت ، عوامی نیشنل پارٹی بھی پیش پیش ہیں اور پورے طمطراق کے ساتھ اپنے ان ”معصوم گنہگاروں “کی پشت پناہی میں سر گرداں ہیں۔

    آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ پر دشنام درازی بھی جاری اور اپنی معصومیت اور جمہوریت پسندی کا راگ بھی بد ستور الاپاجا رہا ہے ۔ پنجاب حکومت سمیت تمام سیاسی قوموں نے میڈیا کے حق میں قرار داد لاکر اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش تو ضرور کی ہے مگر در حقیقت نہ یہ مقصد ہے اور نہ اس سے ارباب تحریر وتقریر کی شہرت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ میڈیا ایک کھلی کتاب کیطرح پورے معاشرے کے سامنے ہے جبکہ تاریخ بھی بہترین نقاد اور محاسب ہے۔ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور افراد سمیت اداروں کی آزادی کے لیے بڑی قربانی پیش کر نیوالا یہ ریاستی ستون آج بھی بڑی مستقل مزاجی کیساتھ اپنے فرائض نبھا رہا ہے ۔ اس کا ارتقائی سفر دوگام کا ملیت کی طرف جاری ہے اور ہر گز رتے دن کیساتھ یہ تکمیل کے مراحل طے کرتا،پورے معاشرے کو نئی بنیادوں پر استوار کرتا منزل کی طرف محوسفر ہے۔ مگر پنجاب اسمبلی میں گونجتی اور چار دانگ عالم سنائی دینے والی بارگشت ہماری سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ممبران اسمبلی کی عاقبت نااندیشی اور عقلی بحران کی غماضی کرتی ہے ۔ ممبران پنجاب اسمبلی کی طعن وتشنیع ، قائدین کی وضاحتیں اور پہلی قرار داد سے دوسری قرار داد تک کا سفر ایک پوری داستان لیے ہوئے ہے جو بڑے مفصل اندازمیں لوگوں کے سامنے سیٹج ہو چکی ہے اور عوام سیاسی کٹھ پٹلیوں کا یہ بد نما بے ترتیب ڈرامہ بہتر انداز میں سمجھ چکے ہیں ۔ عقلِ فطری (Common Sense)سے عاری سیاسی قیادت بھی اس بھونڈے وار کے اثرات بخوبی جان چکی ہے اور شاید اپنے تھپڑوں سے خود کے چہرے بچانے کی تدبیر کر تی نظر آتی ہے ۔

    مگر بظاہر عبرت حاصل کرنے کے دعویدار اس گروہ چشم پوشی کی قبیح رسم کو پورے مان سمان کے ساتھ سینے سے لگا رکھا ہے۔ اور اپنے اقوال و اعمال کو نہ بدلنے کی قسم کھائے ہوئے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ ڈگری سکینڈل صرف مقبول حکومتوں ، مراد مرکز میں پیپلز پارٹی اور پنجاب کی لیگی حکومت کو متززل کرنے ، سیاستدانوں کو بدنام کرنے اور ملک میں وسط مدتی انتخابات(Mid Term Elections)کی راہ ہموار کرنے کی ساز ش ہے۔ مگر اس پر مغز توجیہہ کی گردان کرنے والے صاحبان عقل ودانش ان عناصر کی نشاندہی کرنے سے یکسر قاصر نظر آتے ہیں یا جان بوجھ کر کسی عظیم سیاسی فلسفے کے تحت اور عوام یعنی میرے اور آپ کے وسیع تر مفاد میں ان کی پردہ پوشی کیے ہوئے ہیں ۔جناب عالیٰ ہم آپ کے ممنون احسان ہوں گے اگر آپ اپنی دور اندیشن نگاہوں سے ان عناصر کی کھوج لگا نہیں اور پوری قوم کے سامنے ان کو بر ھنہ کر کے اس پوری قوم کو جو پہلے ہی آپ کے احسانات کا بار اٹھانے سے قاصر ہے ، مزید عاجز فرمائیں کہ ہم بھی ایک طرف آپ کی مدح سرائی اور قصیدہ گوئی کی پیدائشی ذمہ داری سے سرخرو ہو کر آپ کی نظر وں میں امر ہوں اور اس آمرانہ بلکہ یوں کہیے کہ وطن دشمن اور جمہوریت بیزار ہاتھ کو مروڑنے میں آپ کے شانہ بشانہ ہوں ۔

    مگر انتہائی معذرت کے ساتھ کہ جتنا بیوقوف اور خبطی آپ عوام کو سمجھتے ہیں یا آپ کو دکھایا جاتا ہے اتنے وہ نہیں ہیں ۔ بلکہ اس کے بر ععکس وہ ذی شعور بھی ہیں اور فہم وفراست بھی رکھتے ہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ وقتاً فوقتاً کیا جاتا رہتا ہے اور آپ بھی غالباً بہت جلد اس کا ادراک پالیں گے ۔ کمزور بنیادوں پر پر شکوہ محلات بہر حال غیر مستحکم ہوا کرتے ہیں اور زمین بوسی ان کا مقدر ہوا کرتی ہے جبکہ شاخ نازک بننے والا آشیانہ یقینانا پائیدار ہی ہوا کرتا ہے۔

    جمشید دستی سے شروع ہونے والا یہ سفر پورے آب وتاب سے جاری ہے اور ہر ڈھلتی شام اور چڑھتے سورج کے ساتھ اس قافلہ¿ عزیمت میں شامل ہو رہے ہیں ۔ محترم وزیر اعظم اور عالی مرتبت صدرِ پاکستان کے ساتھ ساتھ شریف بردران بھی ان احباب جعلی اسناد پر سایہ فگن ہیں ۔ قابلیت کا منبع اور ذھانت کے مرقع اس قومی اساسے کی پاسبانی اور نگہبانی میں جس قومی جذبے اور سیاسی سنجیدگی سے سر گردان ہیں وہ یقینالائق تحسین و توصیف ہے اور بلا شبہ ہمارے سیاسی فلا سفروں اور قائدین کا طرہ¿ امتیاز ہے۔

    اگر پیپلز پارٹی کی قیادت بشمول وزیر اعظم محترم کی دور اندیشی نے مظفر گڑھ میں گوہرِنا یاب ’دستی ‘کی سپریم کورٹ میں چیرہ کشائی کے باوجود بڑی عدالت’ ’عوام کی عدالت “میں پیش کیا اور عقل ودانش اور آئین وقانون کی پرخار وادیوں میں بھٹکنے والوں کو چاروں شانے چت کر دیا تو کیسے ممکن ہے کہ اس آز مودہ نسخے سے چشم پوشی کی جائے ۔ چنانچہ مسلم لیگ(ن)نے بھی انہیں خطوط پر خاک چھاننے کا قصد کیا ہے اور ایک مرتبہ پھر سے ثابت کیا ہے کہ آئین میں درج ہر لفظ بے وقعت وبے تو قیر ہے جو اراکین اسمبلی کی کردار کی وضاحت کرتا ہے۔ اور اس سے بڑھ کر یہ بھی سبق دیا گیا ہے کہ ڈگری جعلی پسند نہ آئے تو اس سے قیمتی لعل پیش کیئے جائیں گے ۔ حاجی مدثر قیوم نا ہر ا کی ڈگری جعلی ثابت ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا حلقہ100 کے لیے جس ’یاقوت‘ کا انتخاب کیا گیا وہ ”عوامی خدمت “اور قتل کے بے شمار کیسز میں نامزد ہے اور پورا علاقہ ان کے خوف سے کانپتا ہے ۔

    در ھقیقت المیہ یہ ہے کہ اس قوم اس ملک اور اس میں بسنے والی عوام کے بارے میں یہ طے کر لیا گیا ہے کہ ان کا عقل و شعور سے دور کا بھی واسط نہیں ۔ ان کو افراد چننے کی آزادی نہیں دی جاسکتی بلکہ ان پر صرف افراد مسلط کیے جا سکتے ہیں ۔یہ ہی ان کی قسمت اور مقدر ہے مگر دنوں اور تقدیروں کا بدلنا طے پاچکا ہے ۔ ترتیب زمانہ بھی بدلے گی اور دستور زمانہ بھی تبدیل ہوگا۔ شعور و آگہی کو عام ہونا ہے اور عقلوں پر پڑے تالے کھلنے ہیں ۔

    دستی کی جیت سے یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ یہ معاشرہ گندے پانی کے جو ھڑ میں بدل چکاہے ۔ جہاں جس وضع کے مخلوق مسلط کر دی جائے کوئی معترض نہ ہوگااور نہ ہی کوئی زیر لب بڑ بڑائے گا ۔تم اس راز کو جلد پالو گے اور یقینا حقیقت تو آشکار ہو کر رہے گی کہ باطل خواہ کسی لباس میں ملبوس اور کسی ڈھب میں ڈھل جائے اسے مٹنا ہی ہے ۔

    پہلا پتھر اس بظاہر کھڑے پانی میں مدو جزر پیدا کر چکا ہے اور اس سے جنم لینے والی نحیف لہریں ان میں پنہاں طلاطم کا عنوان ہیں ۔ ستر سالوں سے وطن عزیز پر قابض ڈگری چوروں کی چہرہ کشائی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ دستیوں ، جٹوں، لنگڑیالوں ، ناہروں سب کی بے نقابی کا عمل شروع ہو جبکہ اگلا مرحلہ منزل سے قربت کا ہے ۔ تم میڈیا پر تھوک کر ایک مرتبہ چہرہ آلودہ کر چکے اور معزز عدلیہ پر نقب زنی اور اسے متناز عہ بنانے کی تمہاری ساری کاوشیں بھی رائیگان جائیں گیں۔ تھپڑ بھی تمہارے اور چہرے میں تمہارے ہوں گے مگر وقت بدل چکا ہو گا۔ قلم خواہ صحافی کی جیب کا ہو یا جج کی میز کا، وہ آزاد رہے ۔ ۔۔۔مسخ ہوں گے تو ان کے چہرے جو اقتدار اپنا حق اور انسانوں کو محکوم سمجھتے ہیں ۔ منادی ہو چکی ، سیاہی سوکھ چکی ،کہ اب کی بار مقدر کو وقت کی رفاقت میسر ہے اور شعور وآگاہی کو منزل تک پہنچنا ہے۔






    Email This Page
    Your Feedback
    © 2010 Friends Media . All Rights Reserved.