Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول










محمد فاروق عادل
  • شکریہ الطاف حسین
  • کراچی کا قضیہ
  • حادثے سے بڑھ کر سانحہ
  • امتحان کے تین سال
  • ریل پٹری سے کیوں اتری؟

  • مزیدکالم














    ریل پٹری سے کیوں اتری؟

    محمد فاروق عادل

    تاریخ اشاعت : Wednesday 21st of July 2010 یہ کالم 128 دفہ پڑھا جا چکا ہے 

    چلئے چھٹی ہوئی، اب نہ اپنے دیس میں ریل ہو گی،نہ اس کی سیٹی بجے گی اور نہ دل غم سے بھرے گالیکن یہ چھوڑئیے یہ شاعروں کے چونچلے ہیںاصل سوال یہ ہے کہ عوام کیا کریں گے؟ریل نے ملک کو ملا ہی نہیں رکھا ، اس کے کروڑوں لوگوں کے دل ہی آپس میں جوڑ نہیں رکھے بلکہ کروڑوں معصوم دلوں پر خوشی کی پھوار بن کر برستی رہتی ہے۔کتنے ہی اس دیس کے بچے ہیں جو آج بھی اپنی شامیںٹرین بنکر گذارتے ہیں ،وہ ایک دوسرے کا دامن پکڑ کر قطار بنائے اپنے منہ سے چھک چھک کو کوکی آواز نکالتے ہیں اور خوش ہوتے ہیںمگر اب تو یوں لگتا ہے جیسے ہمارے پیارے الحاج غلام احمد بلور ان پیارے پیارے بچوں سے ان کا یہ کھیل جواب تک وہ مفتامفت ہی کھیلتے چلے آئے ہیں چھیننے کے درپے ہیں۔بلور صاحب جس رفتارسے ٹرینیں بند کررہے ہیں اس کا نتیجہ اور کیا نکل سکتا ہے؟چلتی ہوئی گاڑی ہو،کاروبار یا کوئی اور کارخانہ،حکمت اور ضرورت کے تحت اس میں تبدیلیاں ضرور ہونی چاہئیں،ایسی تبدیلیاں اگر ریلوے بھی کرے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن وہ حکمت عملی جو بلور صاحب نے اختیار کررکھی ہے ،اس کے نتیجے میں تو جما جمایا کارخانہ ہی دریا برد ہو جانے کا امکان ہے۔
    ابھی چند روز پہلے بلور صاحب نے چھ ٹرینیں بند کی ہیں ٹرینوں کی اس بندش سے دو چار ماہ قبل بھی ایسے ہی ایک فیصلے کے نتیجے میںچار پانچ ٹرینیں بند ہوئی تھیںاس کا مطلب یہ ہوا کہ قبل بلور صاحب اب تک ایک درجن ٹرینوں کا گلا تو گھونٹ چکے ہیں،شاید یہی بات ذہن میں ہو گی کہ کراچی کے ایک صحافی نے ان سے پوچھ لیا کہ جناب! یوں ہی ٹرینیں بند کر کے غریبوں کی آمد و رفت بند کرنی ہے یا اس سفید ہاتھی کا بوجھ بھی ہلکا کرنا ہے،یوں لگتا ہے کہ یہ سوال پوچھتے ہوئے ان کے ذہن میں ایک بات اور بھی رہی ہو گی کہ وہ جو مغل پورے کی ورکشاپ میں کام کرنے والے ہزاروں کارکنوںمیں سے ہزاروں کام چور ٹوکن ٹانگ کر یعنی حاضری لگا کر غائب ہوتے ہیں اور دن بھر اپنا کاروبار کرتے اور شام کو ٹھنڈے ٹھنڈے گھر لوٹ آتے ہیں ،کچھ علاج ان کا بھی ہے کہ نہیں۔کئی برس پہلے ،جب سکھر ریجن میں حادثے معمول بن گئے اور ہر حادثے میں ڈیڑھ دو سوافراد جان سے جانے لگے تو ان سطورکے لکھنے والے کو اس موضوع پر کچھ کام کرنے کا کچھ موقع ملا تھا۔ایک نشست میں پاکستان ریلوے کے جنرل مینجر مدعو تھے اور سوال کرنے والوں کے پینل میں ریلوے کے مختلف شعبوں کے ریٹائرڈ افسر اور ماہرین بھی شامل تھے،جنرل مینجر صاحب کہ مزاج میں وہ بھی غلام احمد بلور صاحب کی طرح شکائیتیں زیادہ اور کام کم کرنے کے عادی تھے، وسائل خاص طور پر ٹیکنیکل ساز و سامان میں کمی کا عذر پیش کیا،اس کے جواب میں پاکستان ریلوے کے ایک سابق ممبر انسپکشن کہ ساری ہیرا پھیریوں سے آگاہ تھے ،مغل پورے کے گھپلے کا سوال اٹھا یا تو جنرل مینجر صاحب فرمانے لگے کہ مغل پورے کی بات چھوڑئیے کہ اب یہ معاملہ بہت پرانا ہو چکا۔بھئی یہ بات کیوں چھوڑیں ،کیا اس معاملے کی اصلاح ہو گئی ہے جو اس معاملے کی بات نہ کریں؟خیر! جب بلو رصاحب سے بے کار ملازمین کا بوکھ کم کرنے کی بات کی گئی تو ان کا جواب یہ تھا کہ ریلوے میں تو ملازمین پہلے ہی بہت کم ہیں۔ویسے یہ بھی بلور صاحب نے درست ہی کہا کہ جو وزیر میرٹ کے بغیر ہزاروں کی تعداد میں ملازمین بھرتی کرنے کا مرتکب ہو اس دھاندلی کے سامنے کھڑے ہونے والی ایک دھان پان سی اہلکار کو کھڈے لائین لگانے پر بھی نہ شرمائے ،اس سے ایسے جواب ہی توقع ہی کی جانی چاہئے۔
    غلام احمد بلور صاحب نے کراچی کی پریس کانفنرنس میں ایک بات اور بھی کہی ،ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے اور وسائل ہمارے پاس ہیں نہیں،دوسرے لفظوں میں انہوں نے قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ چونکہ وسائل ہمارے پاس نہیں ہیں اس لیے کوئی یہ توقع نہ کرے کہ ریلوے کے حالات درست ہو سکیں گے یعنی گاڑیاں یوں ہی ستر ستر گھنٹے تاخیر سے اپنی منزل پر پہنچتی رہیں گی، ان اطراف کی گاڑیاں بند ہوتی رہیں گی ،جن اطراف میں بھاری بھرکم لوگ نہیں رہتے جیسے کراچی سے ملتان جانے والی شاہ رکن عالم ایکسپریس بند نہیں ہوئی،حالانکہ اس کے مسافرون کی تعداد تو بعض اوقات ایک درجن تک بھی نہیں ہوتی۔غلام احمد بلور صاحب نے جس روز چھ ٹرینیںبند کی ہیں،اس روز شاہ رکن عالم ایکسپریس کے ذریعے کراچی سے ملتان جانے والے مسافروں کی تعداد چھ تھی لیکن ظاہر ہے کہ ایسی ٹرین کیسے بند ہو سکتی ہے؟
    بلور صاحب وسائل کی بات کرتے ہیں،یہ اہم اور متعلق بات ہے لیکن اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ وسائل جاتے کہاں ہیں؟ جنرل مشرف کے زمانے میںریلوے کے ایک وزیر ہوا کرتے تھے،جنرل سعیدالظفر،ان کے دور میں چین سے انجن درماد کیے گئے تھے یہ انجن جیسے ہی ٹریک پر آئے بیٹھ گئے ،اسس پر ہاہاکار مچی اور سوال اٹھا کہ ایسے ناقص انجن کیسے خریدے گئے اور کون ان کا ذمہ دار ہے ؟اس کے بعد ایک تحقیقاتی کمیٹی بنی جس فیصلہ دیا کہ سعیدالظفرصاحب نے تو یہ سودا نیک نیتی کے ساتھ کیا تھامال خراب نکل آیا ہے تو اس میں ان کا کیا قصور؟اب یہاں ایک منٹ کے لیے رک کر سوچیں کہ اگر جنرل سعید الظفر صاحب کی جگہ کوئی اور ہوتا توبھی اس تحقیقاتی کمیٹی کا فیصلہ یہی ہوتا؟شاید بلکہ یقینا نہیں،اس لیے وسائل کے متلاشی وزیر ریلوے کو سب سے پہلے تو اس طرح کی لوٹ مار کا حساب لینے کی فکر کرنی چاہئےوسائل خودبخود پیدا و جائیں گے اس کے باوجود اگر ریلوے کو وسائل کی کمی رہتی ہے تو وہ قومی خزانے پر بوجھ بنے بغیر اپنی یہ ضرورت بھی پوری کرسکتی ہے اگر لینڈ مافیا سے اپنی کھربوں روپے کی اراضی واگذار کراکے اسے استعمال میں لائے،کرائے پر دے یا ناگزیر ضرورت کے تحت انہیں فروخت کردے۔حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے حکمرا ن قوم سے مطالبات کرتے ہیں ،قوم نے جس مقصد یعنی کاروبار مملکت چلانے اورمسائل کے حل کے لیے انہیں اقتدار سونپا ہے وہ کام نہیں کرتے۔






    Email This Page
    Your Feedback
    © 2010 Friends Media . All Rights Reserved.