Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول




 افسانہ  افسانہ نگاروں کی فہرست
بندہءصحرائی  { قاضی نصیر عالم }
فریاد گذشتہ ایک گھنٹے سے اپنی انٹر کولر جیپ میں بیٹھا اسے اسٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا ہر دفعہ اگنیشن میں چابی گھمانے پر ڈیش بورڈ میں کچھ رنگ برنگی لائٹیں جلتی لیکن جیپ کا طاقتور انجن کسی ڈھیٹ مجرم کی طرح خاموش رہتا۔ فریاد کئی مرتبہ بونٹ اٹھا کر بیٹری کی تاریں چیک کر چکا تھا۔ اس سے زیادہ وہ کچھ جانتا بھی نہ تھا اس کی ساری امیدیں دم توڑ چکی تھیں اور غصہ رفتہ رفتہ بڑھ رہا تھا۔ اس نے مایوس ہو کر برابر کی نشست سے اپنا ریپیٹر اٹھایا اورگاڑی سے اترنے کے بعد پوری قوت سے دروازہ بند کیا اور دروازیں آپے درپے دو تین لاتیں رسید کردیں۔ دروازہ زور سے بند کرنے کی وجہ سے گاڑی پر جمی ہوئی دھول اٹھی اور اس کے چہرے اور کپڑوں پر آرہی۔ وہ پتھریلی زمین پر چھوٹے چھوٹے کنکروں کو ٹھوکریں مارتا ہوا پیدل چلنا شروع ہوگیا۔ اس نے غریب ہوتے ہوئے سورج پر نگاہ ڈالی کئی میل دور انتظار میں بیٹھے ہوئے اپنے دوستوں کے بارے میں سوچا تو اسے سورج کے ساتھ اپنا دل بھی ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ انجانے راستوں میں کئی میل پیدل چلنے اور اس ویرانے میں اپنے دوستوں کو تلاش کرنے کے خیال سے اس کا دماغ جیپ کے انجن سے زیادہ گرم ہوگیا۔ اس کے جبڑے سختی سے بھنچے ہوئے تھے اور کنپٹیوں پر دو چھوٹے چھوٹے گومڑ سانس لیتے ہوئے نومولود بچے کے سینے کی طرح اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ لوڈ آٹومیٹک ریپٹر پر اس کی گرفت ہر لمحہ مضبوط ہو رہی تھی اور اس کی انگلی بار بار اس کے ٹرائیگر کو چھو رہی تھی۔ اس کیفیت میں مزید کوئی 20 قدم اٹھانے کے بعد وہ یکلخت گھوما کچھ فاصلے پر اس کی تین ہزار سی سی کی جیپ کھڑی تھی جس کا رنگ مٹی میں چھپا ہوا تھا اسے یوں محسوس ہوا کہ وہ اسکی بے بسی کا مذاق اڑا رہی ہو۔ لعنت ہو تیری رفاقت پر غصے سے بڑ بڑاتے ہوئے اس نے اپنا ریپیٹر اور سیدھا کیا۔ پھر ویرانے میں دھائیں دھائیں کی تین آوازیں گونجی جیپ کی ونڈ اور بیکٹ اسکرین چکنا چور ہو چکی تھی ایل جی کارتوس کے دو تین موٹے چھرے گاڑی کے بونٹ میں بھی دھنس چکے تھے۔ اس نے ایک بار پھر ٹرائیگر دبایا چیمبر خالی تھا اس لیے بندوق کھٹ کی آواز کے ساتھ خاموش ہوگئی۔
اس کا غصہ کچھ کم ہوگیا تھا لیکن پریشانی مزید بڑھ گئی تھی۔ وہ عموماً اپنے جذبات کا اظہار اسی طرح کیا کرتا تھا جب بھی رات کو ڈیڑھ دو بجے اچانک کلاشنکوف کے برسٹ چلتے تو گوٹھ کے مکینوں کو یہ علم ہو جاتا کہ وہ آج گوٹھ میں موجود ہے۔ فضاءمیں گولیاں برسانے کا خیال اسے اپنے کمرے میں بیٹھے اچانک آجاتا ایسا وہ عموماً شدید بوریت محسوس کرتے ہوئے کیا کرتا تھا۔ اس کےة گھر والے بھی اب عادی ہو چکے تھے۔ لیکن اپنے محل نما گھر سے متصل قلعہ جیسی اونچی دیواروں والی خوبصورت اوطاق اور ضلع دادو کے اس چٹیل میدان میں بہت فرق تھا۔ اس کے عقب میں دو تین میل کے فاصلے پر سبزے سے محروم چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا سلسلہ تھا جس پر خاردار پودوں کے سوا کچھ نہ تھا اور سامنے کیکروں کے جنگلات سے بھرا ہوا میدان تھا۔ کیکر کے چھوٹے بڑے جھنڈ تھے کہیں پتھریلی زمین اور کہیں دھول اڑاتی ہوئی مٹی جس میں اس کے پاﺅں دھنس جاتے تھے۔ وہ صبح اپنے شہر کے دو دوستوں کے ساتھ یہاں سوروں کے شکار کے لیے آیا تھا۔ شام تک انہوں نے دو درجن کے لگ بھگ سور مارے تھے ان کے پاس کارتوسوں کی ایک پیٹی باقی بچی تھی۔ فریاد نے اپنے دوستوں کو چھوٹے گیس سلنڈر کا چولہا اور چائے کا سامان تھمایا اور خود اپنے پاس موجود آخری پیٹی ختم کرنے کے ارادہ سے نکل کھڑا ہوا۔ کیکر کے جھنڈوں سے پہلو بچاتے ہوئے اس کی جیپ درمیانی رفتار سے آگے بڑھتی جارہی تھی۔ کارتوسوں سے بھرا ہوا ریپیٹر اس کی گود میں رکھا ہوا تھا۔ سوروں کا غول نظر آنے کی دیر تھی۔ جیپ کی رفتار یکدم تیز ہوتی اور زرا کھلے میدان میں پہنچتے ہی وہ اسٹیرنگ چھوڑ کر اپنا ریپیٹر اٹھاتا اور چلتی گاڑی سے سائیڈ کے شیشے سے ان پر کارتوس برسانا شروع کر دیتا۔ 20 منٹ کی ڈرائیو کے باوجود اسے اپنا شکار نظر نہیں آرہا تھا۔ کئی بار اس کے ذہن میں واپس پلٹنے کا خیال آیا لیکن اسے بچے ہوئے کارتوس واپس لے جانے کی عادت نہیں تھی۔ اس نے جیپ کی رفتار تیز کر دی مزید تین چار میل مختلف راستوں پر گاڑی چلانے کے بعد اس کی جیپ اچانک بند ہوگئی تھی اور اب وہ پیدل چلتے ہوئے اس دن کو کوس رہا تھا جب وہ سوروں کے شکار کی جانب راغب ہوا تھا۔
شکار اس کے بچپن اور واحد شوق تھا۔ لیکن وہ صرف پرندوں کا شکاری تھا۔ اور یہ شوق اسے اپنے بابا سے ورثے میں ملا تھا۔ سردیاں شروع ہوتیں اور وہ دن گننا شروع کر دیتا کہ کب سائبیریا سے پرندوں کی آمد شروع ہوگی وہ تصور ہی تصور میں پرندوں کے جھنڈ اڑتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ پرندوں کی آمد کے بعد وہ ایک ماہ مزید بے چینی کے عالم میں گذارتا اسے کچھ تو مہمان پرندوں کی ہزاروں میل کی مسافت کا خیال ہوتا اور کچھ ان کے کمزور ہونے کی فکر لاحق ہوتی تھی۔ ایک ماہ میں جب یہ پرندے کھاپی کر دوبارہ صحت پکڑتے اس عرصے میں کیٹی بندر پر کھڑی ہوئی اس کے بابا کی فائبر کی اسپیڈ بوٹ پوری طرح تیاری ہوتی۔ پھر یہ تیسرے روز وہ درجنوں کارتوس کی پیٹیوں اور دو تین بندوقوں کے ہمراہ شکار کے لیے نکلتا واپس پر اس کی ہلکی سی اسپیڈ بوٹ پرندوں سے لدی ہوئی ہوتی تھی۔ بندوق میں کارتوس بھرنے کا کام ووہ خود کرتا تھا البتہ زخمی پرندے اٹھانے کے لیے دو تین پھرتیلے ماہی گیر لڑکے اس کے ہمراہ ہوتے تھے۔
کیٹی بندر سے پورٹ قاسم تک تمر کے جنگلات کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ جن کے اندر سمندر پانی کی بنی ہوئی ہموار سڑکوں میں تبدیل ہو جاتا۔ پورے شکار کے دوران وہ بات کرنے سے گریز کرتا تھا ایک ہاتھ میں بندوق تھامے دوسرے ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کرتا اور اسپیڈ بوٹ کا رخ اسی طرف موڑ دیا جاتا کنارے پر بیٹھے ہوئے پرندے نظر آنے کی صورت وہ اپنا مخصوص اشارہ دیتا اور بوٹ چلانے والا انجن بند کر دیتا۔ بوٹ اپنی رفتار میں پرسکون پانی پر خاموشی کے ساتھ کنارے کی طرف بڑھتی پرندوں کے زد میں آتے ہی وہ کھڑے ہو کر نشانہ لیتا اور فائر کر دیتا زخمی پرندہ پھر پھڑاتے ہوئے تیمر کے جنگل میں گھسنے کی کوشش کرتا اس دوران بوٹ کنارے کے قریب پہنچ جاتی اور اس پر موجود لڑکا پھرتی سے چھلانگ لگاتا اور دلدلی زمین میں بھاگتا ہوا جنگل میں گھس جاتا۔ واپسی میں اس کے ہاتھ میں ذبح کی ہوئی مرغابی یا کوئی اور پرندہ ہوتا تھا۔ اکثر اوقات وہ کسی پرندے کو پھینک دینے کا کہتا جو اس کے نزدیک حرام تھے پرندوں کی حد تک اسے یہ تمیز خوب از برتھی۔ ماہی گیر لڑکا کشتی کے ایک سرے پر بیٹھ کر اپنی کیچڑ میں گھنٹوں تک لتھڑی ہوئی ٹانگوں کو صاف کرتا اور واپسی سوار ہو جاتا۔ فضاءسے گرائے جانے والے پرندے زخمی حالت میں پانی کی سطح پر تیرتے رہتے انہیں پانی سے اٹھا کر لڑکے ذبح کر دیتے البتہ دم توڑ جانے والے پرندوں کے بارے میں اس کا فیصلہ اکثر مختلف ہوتا جس کا دارومدار اس کی یادداشت یہ ہوتا تھا کہ اس نے فائر کرنے سے قبل کلمہ پڑھا تھا یا نہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کے لیے رحیم یار خان میں ہرن کے شکار کے لیے بھی راہیں کھل گئی تھیں جہاں اس کے جاگیردار بابا کے دوست رہتے تھے۔ اس کی اوطاق میں بہت سے بھس برے ہوئے ہرن موجود تھے جن میں سے کچھ اس کے ہاتھوں شکار ہوئے تھے ۔یوں تو اس اوطاق میں شیر اور چیتے کی کھالیں بھی آویزاں ہوجاتیں، لیکن اس سے پہلے اسے ایک کسٹم آفیسر کی کھال میں بھیس بھر کے کھڑا کرنا ضروری تھا جو اسکے بابا کا دوست تھا۔ اس لیے وہ باوجود چاہتے ہوئے بھی اپنی اس خواہش کو پورا کرنے سے قاصر تھا۔ دو سال قبل جب اس کی عمر 19 سال تھی وہ اپنے چچا اور ان کے کچھ دوستوں کے ساتھ شکار کرنے کے لےی جنوبی افریقہ گیا تھا۔ لائسنس حاصل کرنے کے بعد انہوں نے خوب شکار کھیلا واپسی پر کھالیں لے جانے کے لیے بھاری فیس دے کر خصوصی اجازت نامے حاصل کیے اور پھر اچانک انہوں نے یورپ کے دورہ کا پروگرام بنا لیا جبکہ کھالیں اس کسٹم آفیسر کے نام پر بھجوادیں جو اس نے بعد شکریہ وصول پاکر اپنے ڈرائینگ روم میں آویزاں کردیں۔ اس تلخ تجربے کے بعد اس نے جنوبی افریقہ جانے سے توجہ کرلی تھی روپے پیسے کا مسئلہ سرے سے نہیں تھا۔ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی، اعلیٰ نسل کے کئی مویشی فارموں کے علاوہ ایک بڑی شوگر مل اس کے بابا کی ملیکت تھی۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ اسے اپنے شہر کے دوستوں میں خاصی سبکی اٹھانی پڑی تھی اس کی باتوں کو کوئی رسالوں میں پڑھے ہوئے شکاریات کے حصوں زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہ تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ انہیں جنوبی افریقہ لے جاکر اپنی مچان کے نیچے چارہ کے بکرے کی جگہ باندھ دیتا لیکن دولت ہزاروں خواہشیں پوری کرنے کے باوجود اکثر اوقات بعض چھوٹی چھوٹی معصوم اور بے ضرر سی خواہشوں کو پورا کرنے سے ہاتھ اٹھا دیتی ہے۔
وہ پیدل چلتے ہوئے اپنی جیپ سے خاصی دور آچکا تھا۔ اسے سمت کا پتہ نہیں تھا بس وہ اندازے سے صحرائی درختوں کے ایک جھنڈ سے نکلتا اور اس کے سامنے کوئی ٹیلا آجاتا۔ اپنی دھن میں مگن چل رہا تھا کہ اچانک ایک سرمی رنگت کا چربیلا سو¿ر سامنے کیکروں کے جھنڈ سے نکلا اور کٹ کٹ کرتے ہوئے بھاگتا ہوا کچھ فاصلے پر دوسرے جھنڈ میں غائب ہوگیا۔ سٹور کی نسل اس نے نفرت سے زمین پر تھوکا، دوسرے ہی لمحے خالی بندوق کے ساتھ کسی زخمی سور کا سامنا ہونے کے خیال سے ہی اسے جھر جھری آگئی۔ پریشانی میں وہ اپنے ریپیٹر کو دوبارہ لوڈ کرنا بھول گیا تھا۔
ٹھیک دو سال قبل اس کے گوٹھ میں کوئی سور نامعلوم وجوہات کی بناءپر سو¿ر زمین پر اتر آیا تھا رات کو زمینوں کو پانی دے کر واپس آنے والے دو ہاریوں کو اس نے نشانہ بنایا جس میں سے ایک کے زخم بھرنے میں چھ ماہ لگ تھے اور اس کا پورا بدن ڈاکٹروں نے کسی رلی کی طرح سیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد لوگ اندھیرا پھیلنے کے بعد گھروں سے نکلنے سے گریز کرنے لگے تھے۔ لیکن وارہ بندی کی وجہ سے پانی کی ویسے ہی قلت تھی۔ ایسے میں اپنی باری سے ہاتھ دھونے کا تصور بھی محال تھا۔ ایک ہفتے بعد ایک بوڑھا ہاری رات کو کھیتوں میں پانی دے کر واپس آرہا تھا گوٹھ سے زرا فاصلہ پر سور اس پر پل پڑا فریاد اس وقت اپنی اوطاق میں بیزار بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اس نے شور کی آواز سنی تو صورتحال کا اندازہ لگانے میں اسے دیر نہیں لگی اسی دن کے لیے اس نے ہفتہ بھر سے اپنی بندوق میں موئے چھروں والے ٹرانسپیرنٹ کارتوس ڈالے ہوئے تھے۔ اس نے بندوق اٹھائی اور ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس سمت بھاگنا شروع ہوگیا جس سمت سے آوازیں آرہی تھیں کچھ اور لوگ بھی گھروں سے نکل آئے تھے جن میں سے ایک دو کے ہاتھ میں بندوقیں تھیں اور باقی کلہاڑیاں اور ڈنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ فریاد جب وہاں پہنچا تو بوڑھا ہاری خون میں لتھڑا ہوا تھا۔ اور سٹور اپےن سامنے کے بدہیبت دانتوں سے اس کے نحیف بدن کو بری طرح ادھیڑ رہا تھا۔ اس نے بے بسی سے بوڑھے کے کٹے پھٹے بدن کو اور پھر اپنے ہاتھ میں موجود ریپیٹر کو دیکھا۔ رائفل ہوتی تو وہ بے دھڑ ک گولی چلا چکا ہوتا اس میں نشانہ خطا ہونے کا امکان نہ تھا۔ لیکن کارتوس کے چھروں میں سے کوئی ایک چھرہ بوڑھے کو بھی لگ سکتا تھا وہ تذبذب کے عالم میں کھڑا تھا سٹور اپنے عقب میں لوگوں کی موجودگی سے بے پروا اس کے بدن کے کھیت میں اپنے دانتوں سے ہل چلا رہا تھا۔ فریاد نے کپکپاتے ہاتھوں سے ایک طرف ہو کر اس کی گردن کا نشانہ لیا اور فائر کردیا سٹور بغیر کوئی آواز نکالے ڈھیر ہوگیا بوڑھا کم از کم چھروں سے بچ گیا تھا لوگوں نے اسے فوراً گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال لے گئے۔
یہ فریاد کے لیے تجربہ تھا۔ ایک ماہ بعد اس کے بابا کے کچھ دوست آئے اور وہ ڈھیر ساری کارتوسوں کی پیٹیوں اور چمکتی ہوئی بندوقوں کے ساتھ تیز رفتار جیپوں میں سوروں کے شکار کے لیے نکلے تو وہ بھی اپنا ریپیٹر لیے ان کے ہمراہ ہوگیا۔ میدانی علاقے میں دھول اڑاتی جیپیں درمینی رفتار سے ادھر سے ادھر دوڑتی پھر رہی تھیں خاص فارمیشن میں آئی اور پوری قوت سے دوڑنا شروع ہوگئیں ان کے عقب میں دھول کے غبار اڑ رہے تھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ صحرا کی کسی ریس میں حصہ لے رہے ہوں۔ فاصلہ کم ہوتے ہی سب نے کھڑکیوں سے اپنی بندوقیں نکالیں اور بھاگتے ہوئے سوروں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اس شکار میں کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا تھا کہ اس نے کتنے شکار کیے سب برابر کے شریک تھے۔ شام کو وہ دھول مٹی میں اٹے ہوئے گھر واپس پہنچے۔
اس میں وہ لطف ہرگز نہیں تھا جو سرد اندھیری راتوں میں خوگوش کے شکار میں حاصل ہوتا تھا۔ ٹارچ کی روشنی پڑتے ہی بھاگتے ہوئے خرگوش کے ایک لمحے کے لیے مبہوت ہو جانے اور حیرت سے ساکت ہو جنے والی خوبصورت آنکھوں پر وہ کئی شکار قربان کر سکتا تھا۔ بھاگتے ہوئے خرگوشوں کا تصور ذہن میں آتے ہی اسے کسی قدر راحت محسوس ہوئی اگلے لمحے وہ کراہتے ہوئے زمین پر بیٹھ گیا اس کے نرم تلے والی سینڈل میں کوئی کانٹا چبھ گیا تھا اس نے اپنی سینڈل اتار کر اس میں سے کانٹا نکالا اور اسے واپس پہن کر بے بسی سے چاروں طرف دیکھنے لگا۔ چاروناچار اس نے پھر سے چلنا شروع کردیا اس کے قدم منوں وزنی ہو رہے تھے مایوس اور ناامیدی کی کیفیت میں ایک قدم اٹھنا بھی محال ہوتا ہے۔ آس و امید ہو تو آنکھوں میں سمٹ آنے والا عزم فاصلوں کو سمیٹ دیتا ہے اور اگر یقین ہو تو ہر قدم اٹھنے سے پہلے منزل کی دہلیز پر ہوتا ہے۔ وہ صرف مایوس ہی نہیں غصہ اور جھجھلاہٹ کا شکار بھی تھا۔
تاریخی پھیلتے ہی چمکاڈڑیں باہر نکل آئی تھی اور ادھر سے ادھر اڑتی پھر رہی تھیں۔ اور کئی بار اس کی طرف بڑھتے ہوئے عین اس کے سر کے اوپر سے گذرگئی تھیں۔ ایسے میں چمکاڈروں کے صوتی راڈار اور اس کی بروقت جھکائی دینے کے عمل نے مل کر اسے بچایا تھا۔ اسے یوں بھٹکتے ہوئے دو گھنٹے گذر چکے تھے۔ ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا کاندھے پر موجود بندوق کا معدہ بھی اس کے معدہ کی طرح خالی تھا۔ وہ نڈھال ہو کر بیٹھ گیا خوف آہستہ آہستہ اس کے دل میں گھر کرتا جا رہا تھا۔ ہمراہیوں کے ویران و بیابان میدانوں اور کیکروں کے جھنڈ میں اس کی یہ پہلی رات تھی۔ اس نے چلا چلا کر اپنے دوستوں کے نام پکارنے شروع کر دیئے ہر دفعہ اس کی آواز پہلے سے بلند ہو رہی تھی اور اس میں غصہ کا عنصر کا غالب آرہا تھا۔ اس کی آواز مدھم اور پھر روہانسی ہوگئی۔ کسی زخمی سور کے حملے یا چمگاڈروں کے چمٹ جانے کے خوف اور اپنی بے بسی کے احساس سے قریب تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیتا اپنے خوف پر قابو پانے کے لیے وہ اٹھا اور بے تحاشہ ایک سمت کو بھاگنا شروع ہوگیا۔ دیوانہ وار بھاگتے ہوئے اس کے منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھیں۔ دوڑتے دوڑتے اس کے ٹھوکر لگی اور وہ منہ کے بل گر پڑا۔ اس کے گھٹنے اور بازو بری طرح چھل گئے تھے۔ وہ دیر تک اپنے زخموں سہلاتا رہا اور پھر گھٹنوں میںسردے کر بیٹھ گیا۔ خوف سے اس کا رواں رواں لرز رہا تھا اسے یوں بیٹھے وہئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ کسی سے سخت لہجے میں اسے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں تو اپنے سامنے انسانی قدوقامت کا ایک ہیولٰی سا نظر آیا۔ فریا د جھٹ سے کھڑا ہوگیا اپنے سامنے کسی دوسرے انسان کو پا کر اس کا خوف ختم ہوگیا تھا۔
کیا میمنے کی طرح ممیا رہے ہو؟ وہ درشت لہجے میں بولا۔
اس تاریک رات اور درندوں سے بھرے جنگل میں میری حیثیت ایک میمنے کے سوا کیا ہے۔ فریاد کے لہجے میں بے چارگی تھی۔ اپنی اس حیثیت کا اپتے تیئس تعین کرکے کیا تم اپنے آپ کو بچا لو گے۔ اس کے لہجہ قدرے نرم تھا۔
اتنی اندھیری رات....
فریاد کا جملہ مکمل ہونے سے قبل ہی وہ بولا فضول مت ہانکو رات اندھیری ہی ہوتی کیا تم پر پہلے رات نہیں گذری یا تم سے پہلے کے لوگوں نے اسے کاٹا نہیں۔ رات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ دن اور رات ،دونوں کے آنے جانے میں نشانیاں ہیں۔ آنے والے کی بات ختم نہیں ہو ئی تھی ایک چمکاڈر فریاد کے کان کے قریب سے گذری اور اس نے بے اختیار چیخ ماری۔
کیا ہوا؟ اندھیرے کا حصہ بنے ہوئے ہیولے کی غضبناک آواز آئی۔
وہ چمکاڈر،فریاد نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
وہ معنی حیز لہجے میں بولا۔ تاریکی میں تتلیاں اور جل پریاں نہیں آتیں چمکاڈروں کا ہی راج ہوتا ہے۔ سورج کی ہلکی سی روشنی بھی باقی ہو تو ان میں اپنے غلیظ اور مکروہ ٹھکانوں سے نکلنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اس وقت یہ رذیل قبیل الٹے لٹے روشنی کو کوستی ہے۔ تاریکی پھیلتے ہی یہ بدہیبت نسل اپنی شیطانی آوازوں کے ساتھ اس سمت پھیل جاتی ہے۔ انہیں یہ زعم ہوتا ہے کہ اب ہمیشہ ان ہی کا راج ہوگا لیکن جب سورج............
کیا تم نے کبھی سورج طلوع ہوتے دیکھا ہے۔ اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ کر اچانک فریاد سے پوچھا۔
ہاں! فریاد نے جواب دیا۔
سب کام چھوڑ کر پوری توجہ سے کبھی صرف سورج کو طلوع ہوتے دیکھا ہے۔ اس نے اپنا سوال پھر دوہرایا۔
فریاد نے ایک لمحہ سوچنے کے بعد کہا نہیں ”اس طرح تو کبھی نہیں دیکھا۔
ہوں۔ انسانی وجود محسوس ہونے والے اندھیرے نے اس کا ہاتھ تھاما تو اسے ایک عجیب اطمینان ہوا کہ اس کا ہمراہی انسان ہی ہے۔ ایک سمت چلتے ہوئے وہ عجیب شخص بولا ” دیکھا ہوتا تو کچھ نشانیوں کا تمہیں بھی علم ہو جاتا سحر کیسے طلوع ہوتی ہے“۔ اس گھور اندھیرے میں روشنی کی باتوں سے فریاد کو مزید حوصلہ ہوا۔ اس نے چلتے چلتے اپنے ہمراہی سے پوچھا ہم کہاں جا رہے ہیں۔
دو تین میل کی مسافت پر میری جھونپڑی ہے وہیں چل کر آرام کرنا اونٹنی کا دودھ اور روٹی میسر ہوگی اور جن دوستوں کو تم پکار رہے تھے امید ہے کہ وہ بھی وہاں پہنچ جائیں گے۔ فریاد اس کے جواب سے مطمئن ہوگیا تھا ۔اس نے پھر پوچھا تم اس ویرانے میں کیا کرتے ہیں۔
یہ ضروری نہیں کہ ویرانوں میں زندی بھی ویران ہو۔ میرے پاس کچھ اونٹ ہیں چرچرا کر شام کو خود ہی واپس لوٹ آتے ہیں۔ اونٹنیوں کا دودھ دوہتا ہوں جو گذر بسر کے لیے کافی ہوتا ہے۔ پہلے پہل میں جب یہاں آیا تھا تو اونٹ بھٹک جاتے تھے ان کی تلاش میں مارا مارا پھرتا پھر اس تلاش میں لذت سی آنے لگی اب دن کو اونٹ آوارہ گردی کرتے ہیں اور میں راتوںکو ۔
اس کی معیت میں سفر کرتے ہوئے فریاد کو کسی قسم کی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوا اور وہ اس کے گھر پہنچ گئے۔
کچھ چاند ستاروں کی روشنی اور کچھ تاریکی سے آنکھیں مانوس ہونے کے بعد فریاد دیکھنے کے قابل ہوگیا تھا۔ اس کا ہمسفر ایک کمزور بوڑھا تھا اور اس کا گھر کیا تھا بانس کے ستونوں کے ساتھ بوسیدہ چٹائیوں کی دیواروں اور چھت کے ساتھ ایک جھونپڑی سے بھی گیا گزرا تھا۔ کچھ فاصلے پر مٹی کی دو تین فٹ اونچی دیواروں کے ایک وسیع چوکور احاطے میں اس کے اونٹ بیٹھے تھے۔ بوڑھے نے ایک بڑے پیالے میں اسے اونٹنی کا دودھ اور روٹی پیش کی اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
بھوک سے فریاد کا برا حال تھا یہ غذا اسے کسی نعمت سے کم محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ اس نے کھانا کھاتے ہوئے بوڑھے سے پوچھا تمہاری جھونپڑی تو محفوظ نہیں ہے ۔ جنگلی جانور اس میں آسانی سے گھس کر تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
میں ہر شب اس کا انتظام کرتا ہوں وہ اس طرف پھٹکتے بھی نہیں مجھے پتہ ہے کہ رات کیسے کاٹنی ہوتی ہے۔
کیسے؟ فریاد نے پوچھا۔
ویسے ہی جیسے انسان زمانہ ازل سے کرتا چلا آرہا ہے۔ رات کو آگ جلا لیتا ہوں۔ تمہیں لکڑیوں سے آگ جلانی آتی ہے اس نے فریاد سے پوچھا۔
فریاد نے انکار میں سر ہلایا۔
وہ بولا! رات اندھیری ہو اور محفوظ پناہ گاہ میسر نہ ہو تو چوہوں کی طرح بلوں میں نہیں گھسنا چاہیے نہ درندوں سے بچنے کے لیے کوئی غار یا کھوہ ڈھونڈنی چاہیے کوئی پتہ نہیں کہ وہاں کوئی درندہ تمہارامنتظر ہو۔ ایسے میں کھلے میدان میں آجاﺅ آگ کا الاﺅ روشن کرو اوربیٹھ رہو۔ جب تک صبح کا اجالا نہ پھیل جائے اسے بجھنے نہ دو۔یہ آگ تمہارے تحفظ کی ضمانت ہے۔ زرا آنکھ لگ گئی اور آگ بجھ گئی تو درندے تمہیں چھوڑ پھاڑ دیں گے۔ جہاں جہاں ممکن ہو چھوٹی چھوٹی روشنیاں پیدا کرو کہیں دیئے جلاﺅ کہیں الاﺅ۔ زمین کو آسمان کردو ویسے ہی جیسے آسمان پر رات کو ستارے جگمگاتے ہیں۔
فریا نے کھانا ختم کیا بوڑھے نے برتن ایک طرف رکھے اور چٹائی اٹھائے باہر آگیا۔ فریاد بھی اس کے پیچھے باہر آگیا۔ بوڑھنے نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے لکڑیاں لانے کا کہا۔
فریاد نے لکڑیاں اس کے سامنے ڈھیر کیں اوربولا میرے ساتھ چھلو مجھے اپنے دوستوں کو تلاش کرنا ہے وہ بیچارے بہت پریشان ہوں گے۔ پتہ نہیں ان کی کیا حالت ہوگی۔
بوڑھا بولا آگ کی روشنی میلوں دور سے نظر آتی ہے۔ اندھیرے میں لوگ روشنی کی ہی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں اورپروانوں کی طرح کشاں کشاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ تمہارے دوست زیادہ دور نہیں ہوں گے روشنی دیکھتے ہی وہ اس طرح چلے آئیں گے بوڑھے کی بات معقول تھی۔ فریاد نے قدرے اطمینان کا سانس لیا۔ بوڑھے نے ایک نظر لکڑیوں کی طرف دیکھا اور بولا کمزور اور ناتواں لکڑیاں ہی آگ پکڑتی ہیں۔ آگ جلانے سے قبل شہتیروں کی آس میں بیٹھے رہو گے تو مارے جاﺅ گے کبھی یہ مت سوچنا کہ بڑی لکڑیاں ہوں گی تو آگ روشن کروں گا۔ بوڑھے نے کچھ چھوٹی چھوٹی لکڑیاں سوکھی ہوئی جھاڑیاں اور گھانس پھونس کو ایک مخصوص ترتیب سے رکھا اور فریاد کو ماچس تھماتے ہوئے بولا، لو جلاﺅ۔
فریاد ایک ایک کرکے دیا سلائیاں جلاتا رہا لیکن لکڑیوں نے آگ نہیں پکڑی۔
بوڑھے نے اس سے ماچس لے لی۔ مایوسی اور ناامیدی موت ہے۔ بدترین موت، نہیں یہ موت کے نام پر تہمت ہے بہتان ہے ، وہ بولا۔ بوڑھے نے دیا سلائی جلائی اور ہاتھوں کا پیالہ بنا کر اسے سوکھی ہوئی گھاس میں رکھ دی۔ ننھے سے شعہہ نے پہلے گھانس اور پھر چند جھاڑیوںکو اپنی لپیٹ میں لیا اور زرا دیر پھڑ پھڑانے کے بعد بجھ گیا۔
بوڑھے نے ماچس ایک طرف رکھی اور بولا اب آگ موجود ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے سینوں میں دبی ہوتی ہے۔ بس اسے زرا بھڑکانا ہے۔ سینے روشن ہوں تو باہر کی تاریکی اثر انداز نہیں ہوتی بیٹے تاریک اور تعفن زدہ غار بن جائیں تو باہر کا اجالا بھی بے سود ہوتا ہے۔
بوڑھے نے اپنے گھٹنے اور ہتھیاں زمین پر ٹکائیں اور اپنے نحیف پھیپھڑوں کی پوری قوت سے پھونکیں مارنے لگا۔ اس کی پھونکوں سے جلی ہوئی جھاڑیاں سرخ ہوتیں اورذرا وقفہ ملتے ہی پھر سیاہی مائل ہو جاتیں۔ بس ان کے سروں پر جگنو سا چمکتا رہتا۔ بوڑھنے نے سر اٹھایا اور بولا یہی فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ خوب دھواں اٹھے گا۔ حلق کے راستے پھیپڑوں میں اترے گا۔ آنکھوں میں آنسو آجائیں گے۔ لیکن کھانسے میں وقت ضائع مت کرنا۔ اس نے ایک بار پھر پھونکیں مارنی شروع کردیں۔ ادھر جلی ہوئی لکڑیاں خوب سرخ ہوئیں اور پھر پھونکیں مارنی شروع کردیں ادھ جلی ہوئی گھاس خوب سرخ ہوئی اور پھر یکدم ایک ننھا سا شعلہ بھڑک اٹھا۔ بوڑھا واپس سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور اپنی سانس درست کرنے لگا۔ آگ ہر لمحہ تیز ہو رہی تھی۔ بوڑھا اب اس میں موٹی موٹی لکڑیاں ڈال رہا تھا تھوڑی دیر بعد ان کے سامنے آگ کا الاﺅ جل رہا تھا انہیں بیٹھے ہوئے بمشکل نصف گھنٹہ گذرا تھا کہ فریاد کے دونوں دوستوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور وہ اسی طرف آرہے تھے۔ فریاد خوشی کے مارے اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑا ہوگیا اور زور زور سے انہیں آوازیںدینے لگا۔ چند لمحوں میں اس کے سامنے آن پہنچے فریاد نے بے اختیار آگے بڑھ کر ان سے لپٹ گیا پریشانی ان کے چہروں سے یہاں تھی۔ فریاد انہیں جیپ کے بارے میں بتانے بیٹھ گیا جبکہ بوڑھا ان کے لیے دودھ لانے جھگی کی طرف چل دیا۔ بوڑھے نے دونوں کو دودودھ کے پیالے پیش کیے اور بولا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں صبح قریبی سڑک تک چھوڑ دوں گا۔
چاروں کچھ دیر باتیں کرتے رہے اور پھر خاموش ہوگئے۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد فریاد اکتائے ہوئے لہجہ میں بولا رات اور دن کے دورانیہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا بس رات لگتی طویل ہے ہوتی نہیں ہے۔
تمہاری بستیوں میں جب رات اترتی ہے تو تم کیا کرتے ہو بوڑھے نے جواب طلب نگاہوں سے فریاد اور اس کے ساتھیوں کی طرف دیکھنے ہوئے پوچھا۔
ہم آرام سے اپنے گھروں میں سو جاتے ہیں۔ فریاد نے جواب دینے میں پہل کی
اور تمہارے بچے؟ اس نے پھر پوچھا۔
انہیں ان کی مائیں دبک کر سلا دیتی ہیں۔ فریاد نے جواب دیا۔
جب ہی وہ ساری عمر دبک کر گزار دیتے ہیں تمہاری بستیاں کب سے اتنی محفوظ ہوگئیں۔
خیر جب صبح ہوتی ہے تو لوگ کیا کرتے ہیں بوڑھے کے سوالات کاسلسلہ جاری تھا۔
بیشتر لوگ تو دن چڑھنے تک سوتے رہتے ہیں اور پھر کام کاج کے لیے نکل جاتے ہیں۔
اچھا....! بوڑھے کے لہجے میں حیرت تھی ایک لمحے کی خاموشی کے بعد وہ دائیں بائیں گردن ہلاتے ہوئے زیر لب بڑبڑایا۔ تمہاری بستیوں میں سحر اترتی ہی نہیں تاریکی سے اس قدر مانوس ہو چکے ہو کہ اگر کبھی سحر طلوع ہوئی تو تم میںسے بیشتر لوگ چمکاڈروں کی طرح روشنی کو کوستے ہوئے تاریک کھنڈروں کی طرف لپکیںگے۔
فرہاد کے لیے شہری زندگی کی اتنی شدید مخالفت نئی تھی اور اسے اب بوڑھے کا بولنا بھی ناگوار گزر رہا تھا۔ ”یہ بتاو¿ بابا مجبوری کی بھوک بہتر ہے یا اختیار کی“ اس نے کچھ تن کر اس بزرگ سے پوچھا۔
میرا تو خیال ہے اختیار کی گئی بھوک ہی بہتر ہے۔ بوڑھے نے آہستگی سے جواب دیا۔
تمہارے سامنے کبھی تمہاری اولاد بھوک سے سے بلبلائی ہے؟ اگلا سوال
اولاد کی تو نوبت ہی نہیں آئی، بزرگ مسکرایا
تم کبھی صحرا میں اس طرح رستہ بھولے ہو جیسے میں ؟
ایسا تو کبھی نہیں ہوا، البتہ تم جیسے بہت سوں کو راستے پر ڈالا ہے؟
کبھی تمہیں کوئی لوٹنے کے لیے یہاں آیا ہے؟
آخر تم پوچھنا کیا چاہ رہے ہو؟ بوڑھے نے جھلا کر پوچھا
میں یہ تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسی صحرا میں رہتے ہوئے اسے جان لینا اور یہیں مرجانا کچھ ایسا تجربہ نہیں جس کی بنیاد پر تم شہر والوں کو گالیاں دینے لگو۔ ایک بار کوئی رشتہ تو پال کر دیکھو، کوئی تعلق تو بناو¿ تاکہ تمہیں پتا چلے کہ کسی کے لیے کمانا، کسی کے لیے مرنا حتٰی کے لیے کسی کے لیے لوٹنا اور کسی کے لیے لٹ جانا کتنا اہم اورکتنا بڑا کام ہے۔ شہر میں ہر کوئی اپنی صلیب اٹھائے چل رہا ہے اور تم صلیب سے بھاگے یہاں اونٹ کے دم سے بندھے بیٹھے ہو۔ فرہاد کی تقریر ختم ہوئی تو اس کے دوست حیران رہ گئے۔ ”یہ نہ سمجھنا کہ مجھے تم نے مشکل سے نکال دیا تو میرا لہجہ بدل گیا“ وہ ایک بار پھر خاموش بوڑھے سے مخاطب تھا،”اس کا معاوضہ میں مر کر بھی شاید نہیں چکا سکتا بس یونہی ایک بات کی تھی شاید تمہیں بری لگی ہو“
اب تم سو جاو¿ صبح بات کریں گے، بوڑھے نے سر دمہری سے جواب دیا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔
صبح پو پھٹتے ہی بوڑھے نے ان تینوں کو جگایا۔ دودھ اور روٹی جھونپڑی میں رکھے ہیں، میں اونٹ تیار کرتا ہوں پھر سڑک کی طرف چلتے ہیں، بوڑھے نے سفر کا اعلان کر دیا تھا، سب لوگوںنے تیاری شروع کردی۔ ناشتے کے بعد کوچ ہوا تو بوڑھے کی سرکردگی میں چار اونٹوں پر سب لوگ سوار چلے۔ سورج ابھی سر پر نہیں آیا تھا کہ انہیں دور چٹیل میدان میں سیاہ سڑک پر گاڑیاں چلتی دکھائی دینے لگیں۔ زندگی کے مانوس نشان دیکھ کر نوجوانوں کی خوش مزاجی لوٹ آئی اور فریاد اپنے بھٹکنے کے واقعے کو مزے لے لے کر سنانے لگا۔ بوڑہا ان لڑکوں کو دیکھ کر ہولے ہولے مسکراتا رہا۔
سڑک پر پہنچ کر سب اونٹوں سے اترے اور فریاد نے پہل کرتے ہوئے کہا ”بابا رات تک یہ بیابان مجھے دشمن لگ رہا تھا، تم سے ملنے کے بعد اس کی بھول بھلیاں بھی ہاتھوں کی لکیروں کی طرح لگتی ہے، اپنی اپنی، جانی پہچانی“۔ بابا نے مسکرانے پر ہی اکتفا کیا۔
”اچھا تو نہیں لگتا کہنا، لیکن جان سمیت کسی چیز کی بھی ضرورت ہوتو ایک بار یاد کر لینا، میرا پتہ میں تمہیں دے دیتا ہوں“ بات ختم کر کے فریاد نے جیب میں قلم کاغذ کے لیے ہاتھ ڈالا اور نہ پا کر اپنے دوستوں کی طرف دیکھنے لگا۔ کسی کے پاس بھی لکھنے کے لیے کچھ نہ تھا۔
بابا نے ہاتھ اٹھا کر کہا ”چھوڑ دو، پتے کی ضرورت نہیںِ،میں تمہارے ساتھ ہی چلتا ہوں“
یہ اعلان سب کے لیے حیران کن تھا، ” ضرور ، ضرور، لیکن مجھے تو لگا تھا کہ تم کبھی اپنا صحرا نہیں چھوڑوں گے“ فریاد نے سوالیہ انداز میں کہا۔
ہاں تم سے ملنے سے پہلے مجھے بھی ایسا ہی لگتا تھا، لیکن تم سے ملنے کے بعد لگتا ہے کہ میں کچھ غلط سوچ رہا تھا۔ اس بیابان میں کچھ ہوتا تو اونٹ کی بھی کوئی کل سیدھی ہوجاتی۔ بوڑھے کی بات سن کر سب کے چہروں پر ہلکی سے مسکراہٹ آگئی۔
مجھے لگتا ہے کہ شہر میں رہنے والوں کو صحرا کی ضرورت ہے۔ وہ بیچارے صحرا کی شدتیں تو آبادیوں میں بھی بھگت رہے ہیں، یہاں کی راتوں کا سکون ان کی قسمت میں نہیں۔ لازمی نہیں صحرا کی وسعت ہاتھوں کا چھجا آنکھوں پر رکھ کر دیکھنے سے ہی نظر آئے۔ یہ تو ذرا دل میں دیکھنے سے بھی نظر آجاتی ہے۔ بوڑہے نے اپنے اونٹوں کو واپس صحرا کی طرف ہانکتے ہوئے کہا۔میرے اونٹ تو یہیں رہیں گے، پر صحرا میرے ساتھ ہی جائے گا، شاید کوئی گاہک مل جائے۔

اس مصنف کے مزید افسانے پڑھنے کے لئے کلک کریں
  • پتھر میں پھول
  • بندہءصحرائی
  • قاضی نصیر عالم
  • حبیب اکرم
  • متفرق
  • طارق کلیم
  • اشفاق احمد
  • بانو قدسیہ
  • خادم حسین مجاہد
  • پطرس بخاری
  • ممتاز مفتی
  • وائس آف امریکہ


  • Email This Page
    Your Feedback
    © 2010 Friends Media . All Rights Reserved.