میرا گاؤں { حبیب اکرم }
کھیت میں ہل چلنے سے جو لکیر بنتی ہے اگر اس کا سرا ڈھونڈنے لگیں تو نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ ساتھ چلیں تو گھوم پھر کر انسان وہیں آ پہنچتا ہے جہاں سے چلا تھا۔ بظاہر الگ نظر آنے والی سب لکیریں ایک ہی ہل سے ایک ہی وقت میں کھنچتی ہیں۔ کہیں کہیں ایک دوسرے کا ٹری ہوئی دو لکیریں اچانک ایک تیسیری لکیر بن جاتی ہیں اور یہ بھی گھوم گھام کر پہلے والی لکیروں میں گم ہوجاتی ہے۔
میرے گاؤں کے لوگ بھی ان لکیروں جیسے تھے۔ سادہ، الجھے ہوئے، الگ الگ، ایک دوسرے سے ملے ہوئے۔ بظاہر بے ڈھب اندر سے ہموار۔ پیار کا بیج ڈالو تو ایک بیج سے ایک پودا، ہر پودے کی سات شاخیں، ہر شاخ پر تین بالیاں اور ہر بالی میں ستر دانے۔ نفرت کی فصل بھی اسی طرح جھومتی، لہلاتی مگر رنگ سرخ۔ اب تو دیہات بھی شہروں کی طرح ہوتے جارہے ہیں لیکن میرے گاؤں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں ضروریات محدود اور زندگی لامحدود ہے اور شہر میں ضرورتیں بے حد و حساب اور زندگی منٹوں کی بٹی رسی میں بندھی۔
میں نے اپنے گاؤں کو دیکھنا شروع تو اسی وقت کیا جب پیدا ہوا البتہ سمجھنے تب لگا جب میری عمر چودہ برس تھی اور میں نے آٹھویں پاس کر لی تھی۔ دادا جی نے آنے جانے والوں سے کہنا شروع کر دیا کہ کسی کوبھی خط لکھوانا ہو یا کوئی عرضی، ہمارے گھر آجائے میرا پوتا اس کام کے لیے حاضر ہے۔ نیا نیا رواج چلا تھا کہ لوگ کمانے کے لیے دوسرے ملکوں کا رخ کرنے لگے تھے۔ گاؤں میں ٹیلی فون تو تھا نہیں کہ بات ہوسکے، آجا کے ایک کا وسیلہ تھا مگر اس کے لیے لکھنے والے کم ہی تھے۔ ایسے میں دادا جی کی طرف سے ایسی سہولت کی فراہمی گویا اندھیری گلی میں بتی لگوانے کی طرح تھی۔ اب روز کا معمول یہ ٹھیرا میں عصر سے مغرب تک بیٹھک میں بیٹھا پردیسیوں کے نام ضرورتیں، خواہشات اور جذبات قلم بند کرتا جاتا۔ رفتہ رفتہ اس کام میں میں اتنا طاق ہو گیا کہ لوگ مجھے آنے والا خط پڑھواتے اور میں کوئی بات کیے بغیر اس کا جواب ان کے اطمینان کے مطابق لکھ ڈالتا۔
احسان کا جواب نہ دینا میرے گاؤں والوں کو نہیں آتا تھا۔ پہلے پہلل تو یہ ہوا کہ جسے خط لکھوانا ہوتا وہ دو چار کاغذ ساتھ لے کر آجاتا۔ جب لوگوں نے دیکھایہ دیکھا کہ زیادہ اچھے کاغذ کے کئی دستے ہماری بیٹھک میں اسی کام کے لیے رکھے ہیں تو پھر احسان مندی کے اظہار کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ چاچا رمضان جب دودھ کی گڑوی لے کر آتا تو میں جان جاتا کہ آج سعودی عرب سے اس کے بیٹے کا خط آیا ہے۔ ماسی زینب گڑ کی دو تین پیسیاں اپنے پلو میں لے کر آتی تو اس کا مطلب تھا کہ کراچی میں اس کی بیٹی کو خط لکھنا ہے۔ آپا زرینہ سب سے عجیب تھی۔ وہ سجی بنی خاص طور پر تیار ہو کر، سرمہ ڈالکر آتی۔ خط لکھوانا شروع کرتی تو نظریں جھکی رہتییں۔ القاب و آداب سے بات آگے نکلتی تو نظریں کہیں خلا میں بھٹکتیں اور زرینہ آبا مسقط میں مقیم اپنے شوہر سے گویا باتیں کرنے لگتی۔ میں دھڑا دھڑ اپنی پوری رفتار کے ساتھ ورق پر ورق لکھتا چلا جاتا۔ خط ختم ہوتا تو وہ ٹرانس سے باہر نکل آتی اور لکھا ہوا خط سنے بغیر لفافے میں ڈال کر بند کردیتی۔ واپس جاتی تھوڑی دیر بعد میرے لیے اس کی طرف سے گڑ والی کھیر آجاتی۔
مکتوب نویسی کے دوران میں نے بہت کچھ سیکھا۔ مجھے پتا چلا کہ میرے گاؤں کے لوگوں کے مسائل میں کسقدر مماثلت ہے۔ کس طرح ایک باپ جوان بیٹے سے محبت کا دبا دبا اظہار کرتا ہے، ایک ماں کس کس طرح اولاد کو اپنی محبت کا احساس دلاتی ہے اور تحریر کا کوئی سلیقہ بھی اس کے احساس کو بیان نہیں کر پاتا۔ یہ راز بھی مجھ پر اسی وقت کھلا کہ جوان جذبات کی تسکین کا ایک راستہ الفاظ میں بھی چھپا ہے۔ یہ اندازہ بھی تبھی ہوا کہ علم کے حصول کے لیے کبھی کبھی پڑہنے سے زیادہ لکھنا زیادہ مناسب رہتا ہے۔
دوسال بعد جب میٹرک کے امتحان دے کر فارغ ہوا میرے قد میں چار انچ اور معلومات میں کئی گنا اضافہ ہوچکا تھا۔ معلومات یہ زعم جب گفتگوں میں اپنا رنگ جمانے لگا تو دادا جی نے مجھے ایک نئے کام پر لگا دیا۔ اب میری ذمہ داری یہ بھی تھی کہ فجر کی اذان کے ساتھ ہی بستر چھوڑ دوں اور گاؤں کی مسجد میں وضو کے لیے پانی کا انتظام کروں۔ یہ بندوبست کچھ ایسا تھا کہ مسجد کی ایک ٹنکی تھی جسے بھرنے کے لیے ہاتھ سے نلکا چلانا پڑتا تھا۔ ابتدا میں تو صورت یہ تھی کہ اذان کے ساتھ ہی میں بستر سے نکال دیا جاتا پر میری آنکھ نلکے کی ہتھی پر ہی کھلتی۔ روزانہ کی اس سقہ گیری اور صبح خیزی جب معمول بن گئی تو اس کے بھی نئے پہلوآشکار ہوئے۔ ایک پہلو کا نام جمال تھا۔
جمال میرا پرانا دوست تھا ، کسی زمانے میں میرا ہم جماعت بھی۔ سکول کے ابتدائی برسوں میں ہی پے درپے فیل ہونے کے بعد اس کے کمہار باپ نے اسے آبائی کام پر لگادیا۔ اس کام میں جمال کے جوہر کھلے۔ اس کی بنائی ہانڈیاں، گھڑے، کنالیا اور چاٹیاں پہلے اردگرد کے دیہات اور پھر شہر تک جانے لگیں۔ پھر اس نے شہر کے ذوق کے مطابق گلدان اور صراحیاں بنان شروع کیں تو اس کے گاہکوں کا بڑا حلقہ وہاں بھی پیدا ہوگیا۔ لوگوں نے کئی بار کہا کہ شہر جاکر کام کرو زیادہ کما لوگے۔ لیکن وہ کمانے والا آدمی ہی نہیں تھا۔ جمال اور میں اب ہروز صبح کی سیر کے ساتھی تھے۔ ایک روز میں نے جمال سے پوچھا، تیرے بنائے برتن کیوں مہنگے بکتے ہیں، ہوتے تو وہ دوسرے کمہاروں جیسے ہی ہیں؟ اس نے جواب دینے کی بجائے سوال کیا ’’گندم کے ساتھ توڑی (بھوسا) بھی تو ہوتا ہے، تم دونوں کو ایک ہی قیمت پر کیوں نہیں بیچتے؟‘‘ میں چپ رہا اس نے پھر پوچھا ’’ یہ بتا کسان گندم کیوں بوتا ہے؟‘‘ میں نے کہا مزید گندم کے لیے۔ ’’اچھا کوئی کسان صرف توڑی کے لیے گندم بوئے گا؟‘‘اس نے ایک اور سوال داغ دیا۔ اس سواکے جواب میں میں خاموش رہا۔ اس وقت یہ بات مجھے کچھ بے معنی سی لگی۔ بعد میں جب گاؤں سےاور پھر ملک سے باہر نکلا تو جانا کہ بے شمار ’’کسان‘‘ توڑی کے لیے ہی گندم اگا رہے ہیں۔
جمال عجیب آدمی تھا، وہ قطرے میں دریا اور مٹی میں مورت دیکھ لیا کرتا تھا سو سکول میں فیل ہوجاتا۔ میں جو دریا کو قطرہ قطرہ اور مورت کو ذرہ ذرہ کر لیتا تھا سکول میں آگے نکل گیا۔۔۔۔۔ لگتا ہے علم میں پیچھے رہ گیا!۔ وہ درخت کی مانند تھا جو کڑی دھوپ سے بھی ٹھنڈک کشید کرکے سائے کی صورت آگے بڑھا دیتا تھا۔
درخت سے یاد آیا کہ میرے گاؤں میں برگد کا ایک درخت تھا اور نہ جانے کب سے تھا۔ گھنا، سایہ داراور مہربان سا۔ آبادی سے ذرا ہٹ کر لگا یہ درخت دن کے وقت عورتوں اور بچوں کی چوپال کا کام دیتا تھا۔ گاؤں کے بزرگوں کی نگرانی میں عورتیں اور بچے یہاں جمع رہتے اور ٹولیوں میں بٹے باتیں کرتے رہتے۔ عورتوں اور بچوں میں مشہورتھا کہ اس درخت پر جن رہتے ہیں، جو رات میں اپنی چوپال لگاتے ہیں۔ بچے اور اور عورتیں ’’بوہڑ والے جنوں‘‘ کے کئی واقعات بھی سنایا کرتے تھے۔ البتہ برگد کا یہ درخت رات کو ایک غصہ ور سیاہ پوش چوکیدار لگتا، جس کا کام ہی گویا لوگوں کو دھمکا کر گھروں میں بھیجنا تھا، تاکہ خود اطمینان سے گاؤں کا خیال رکھ سکے۔
میرے گاؤں کی خوبصورتی دورنگوں کی وجہ سے تھی، سبز اور سنہری۔ مئی جون کی چلچلاتی دھوپ میں بھی سنہری گندم اور سبز درخت مل کر ایسا نظارہ دیتے کہ ہزار رنگ اس دورنگی تصویر پر قربان! سردی کے موسم میں یہ ترتیب بدل جاتی، مکئی اور کماد کے ہرے کھیتوں کے درمیاں خاکستری رنگ کے درخت اورپورے منظر پر چھائی دھند شاعر کے تخیل کی تصویر لگتے تھے۔
اپنے گاؤں کے دن رات اور سارے موسم مجھے اچھے لگتے ہیں۔ بس شام میں کچھ ایسا ہوتا تھا کہ یہ وقت مجھے کبھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ دن ڈھلنے کے بعد رات ہونے تک اپنا گاؤں مجھے ایک تباہ حال بستی کی مانند لگتا جسے دشمن کا لشکر روند کر جا چکا ہے۔ ہر گھر سے اٹھتا دھواں، لوٹتے ہوئے چرواہے اور مویشی، کھیل چھوڑتے بچے، چڑیوں کا اپنے گھونسلوں میں شور، یوں لگتا تھا کہ زندگی کی بساط لپیٹی جارہی ہو۔ پتا نہیں شام میرے لوگوں پر کیا جادو کرتی تھی کہ ہر بندہ روٹھا روٹھا لگنے لگتا تھا۔ اور تو اور جمال بھی بولایا بولایا کسی نہ کسی تلاش میں کھو جاتا۔ مجھے یہ قوت اتنا ناپسند تھا کہ میری ہر ممکن کوشش ہوتی کہ کس طرح شام کوگاؤں سے نکل جاؤں۔ جب شام کا طوفان آتا تو میں بھاگ کر نہر کی طرف چلا جاتا اور اس کے کنارے کنارے دیر تک چلتا رہتا۔
نہر سے میرا پہلا تعارف چھوٹے چھوٹے دو کھالوں کے ذریعے ہوا جو گاؤں کے دونوں طرف کھیتوں کے کنارے کنارے گزرتے۔ بچپن میں میری آزادی کی حدوں کا تعین یہ دونوں کنارے ہی کرتے تھے۔ اس وقت مجھے لگتا تھا کہ ان میں پانی کسی نامعلوم دنیا سے آتا ہے۔ ایک دن دادا جی سے میں نے پوچھا کہ ان کھالوں میں پانی کہاں سے آتا ہے؟
’’دریا سے‘‘ وہ بولے۔
’’اور دریا میں‘‘؟
’’پہاڑ سے‘‘۔
اور پہاڑ پر، میں نے پھر پوچھا۔
چل اوئے کن نہ کھا، دادا نے گھرکی دی اور میں چپ ہوگیا۔ وقت گزرا، مجھے پتا چل گیا ککہ پہاڑ پر پانی کہاں سے آتا ہے۔ جب پہلی بار پتا چلا تو میں بھاگا بھاگا جمال سے ملا اور اسے بتایا کہ پہاڑ، دریا اور نہر میں موجود پانی کا کیا چکر ہے۔ وہ بغیر کسی حیرانی کے سنتا رہا، جب میں بات کر چکا تو بولا ’’ بتا اب تیرے پاس پانی کوئی زیادہ ہوگیا ہے؟‘‘۔ جمال کی اس بات نے میری سٹی ایسی گم کی کہ سالوں بعد ملی۔ اب مجھ سے بھی کوئی پوچھے تو میں بھی دریا تک ہی بتاتا ہوں۔ اپنی معلومات کی بے وقعتی کا احساس اس سے پہلے یا بعد میں کبھی نہیں ہوا۔
میرا گاؤں اس دنیا سے میرا پہلا تعلق ہے۔ میں یہاں پانی کو پہلی بارکھالوں میں ہی دیکھا اور پھر اسی پانی کو پسینے سے ملکرفصلوں کی صورت میں اگتے دیکھا۔ مجھے پتا چلا کہ پانی ہو یا فصل اس کی منزل ایک ہی ہے، منڈی۔ پھل ہو یا پھول سب منڈی کا مال ہے، جو ایک بار منڈی میں پہنچا مہنگا سستا بک گیا۔ واپس کبھی نہیں ہوا۔ شاید شہروں کو بڑا ہونا ہوتا ہے!
اس مصنف کے مزید افسانے پڑھنے کے لئے کلک کریں
کہانی یونہی میرا گاؤں امام دین لوہار
|
قاضی نصیر عالم حبیب اکرم متفرق طارق کلیم اشفاق احمد بانو قدسیہ خادم حسین مجاہد پطرس بخاری ممتاز مفتی وائس آف امریکہ
|