نو مارچ ۲۰۰۸ (احفاظ الرحمٰن) { متفرق } (افتخار چوہدری، منیرملک، اعتزاز احسن اور علی احمد کرد کے نام)
’’نہیں ‘‘کا بیج اگایا تھا، جو تم نے اپنے ہاتھوں سے
تَوانا پیڑ کی صورت وہ چاروں سمت پھیلا ہے
تمھارے ساتھیوں نے
عدل کا جو بے ریا پرچم اُٹھایا تھا
ہوا کے سنگ لہراتا ہوا ہر چھت پہ اُڑتا ہے
تمھارے حرفِ حق نے جو کرن
اس سوختہ ساماں زمیں کے دل پہ کھینچی تھی
فضا میں لہلہاتی، لذتِ انکار کی فصلیں اُگاتی ہے
تمھارے ہونٹ سے جو نعرہ ¿ مستانہ اُچھلا تھا
زمیں سے آسماں تک، ہر طرف پرواز کرتا ہے
لہو میں رقص کرتا چار سُو دھومیں مچاتا ہے
ستم گر حکم راں کے قلب پہ
خنجر کی صورت وار کرتا ہے
تمھاری سرفروشی کا ترانہ اس کی آنکھوں کو
سدا بے خواب رکھتا ہے
کہ دَم اس کا اُکھڑتا ہے
رعونت اُس کی تہ خانوں میں چُھپ چُھپ کے بلکتی ہے
سسکتی ہے
تماشا گاہ میں وہ ہنس کے اپنی برتری کا گیت گاتا ہے
تو اُس کے بُجھتے ہونٹوں کی صدا بے جان ہوتی ہے
تماشا گاہ کی گلیاں مذاق اُس کا اُڑاتی ہیں
وہ دن نو مارچ کا تھا، جب خود اس نے اپنے ہاتھوں سے
خود اپنی موت کا عبرت نشاں پروانہ لکھا تھا
وہ دن نو مارچ کا تھا، جب زمیں پہ تم نے
اک انکار کا پودا اُگایا تھا
تمھارا کوٹ کالا ہے
مگر اس میں اُجالا ہے
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا (رانا سعید دوشی) نعت (عاطف مرزا) نعت (جسٹس رانا بھگوان داس) کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا ترا خیال بھی (پروین شاکر) غزل (علمدار حسین) نو مارچ ۲۰۰۸ (احفاظ الرحمٰن) معمول (عاطف خالد بٹ) ٹیررازم (عاطف خالد بٹ) یہ عظمت باطل دھوکہ ہے سیلاب (حبیب اکرم)
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|