ایک سوال { افتخار عارف } میرے آباؤ اجداد نے حرمت آدمی کے لیے
تا ابد روشنی کے لیے
کلمہء حق کہا
مقتلوں، قید خانوں، صلیبوں میں بہتا لہو
ان کے ہونے کا اعلان کرتا رہا
وہ لہو حرمت آدمی کی ضمانت بنا
تا ابد روشنی کی علامت بنا
اور میں پا برہنہ سر کوچہء احتیاج
رزق کی مصلحت کا اسیر آدمی
سوچتا رہ گیا
جسم میں میرے ان کا لہو ہے تو پھر یہ لہو بولتا کیوں نہیں؟
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
ایک سوال
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|