بہت دبلي بہت ہي پتلي حياتي ہوتي جاتي ہے { عبیر ابو زری }
بہت دبلي بہت ہي پتلي حياتي ہوتي جاتي ہے
چپاتي رفتہ رفتہ کاغذاني ہوتي جاتي ہے
ہمارے گال بھي پچکے ہوئے امرود جيسے ہيں
اور ان کي ناک ہے کہ ناشپاتي ہوتي جاتي ہے
ملي ہے حکمراني ديس کي جب پارسائوں کو
تو اپن قوم کيوں پھر وارداتي ہوتي جاتي ہے
بجٹ اس کا خسارے کا اور اپنا بھي خسارے ميں
حکومت بھي ہماري ہم جماعتي ہوتي جاتي ہے
وہ لندن ميں مکيں ہيں ميں ہوں چيچو کي ملياں ميں
ہماري دوستي قلمي دواتي ہوتي جاتي ہيں
ہمارے درمياں بيٹھے ہوئے ہيں افسر اعلي
تبھي تو آج اپني چوڑي چھاتي ہوتي جاتي ہے
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
رويا ہوں تيري ياد ميں دن رات مسلسل بہت دبلي بہت ہي پتلي حياتي ہوتي جاتي ہے ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|