ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں { عبیر ابو زری }
ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں
پرے سے پرے پراں اور بھي ہيں
قناعت نہ کر صرف دو بيويوں پر
شريعت ميں دو بيويوں اور بھي ہيں
ابھي تو تجھے ايک پھينٹي لگي ہے
ابھي تو ترے امتحاں اور بھي ہيں
وہ ايک نار ہي تو جلاتي نہيں ہے
محلے ميں چنگارياں اور بھي ہيں
وہ کھڑکي نہيں کھولتي تو نہ کھولے
نظر ميں مرے بارياں اور بھي ہيں
يہاں صرف تھانے ہي بکتے نہيں ہيں
يہاں کئي ايسے تھاں اور بھي ہيں
اسمگلنگ کي شوگر، اسٹاکنگ کا کينسر
وڈيروں کي بيمارياں اور بھي ہيں
وہ کہتے ہيں انصاف سستا ملے گا
تو ثابت ہوا پيشياں اور بھي ہيں
ہوا تيل کا ہي نہيں مول دونا
بہت قيمتياں ايسياں اور بھي ہيں
عبيرا تجھے وہ بھي سہنا پڑيں گے
مقدر ميںجو سختياں اور بھي ہيں
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
رويا ہوں تيري ياد ميں دن رات مسلسل بہت دبلي بہت ہي پتلي حياتي ہوتي جاتي ہے ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|