نظم { وصی شاہ } میں جو دن بھی کہوں رات، وہ اقرار کرے
مجھ کو حسرت ہے کوءی یوں بھی مجھے پیار کرے
میری خاطر وہ سہے دنیا کے طعنے، دھکے
ننگے پیروں سے وہ صحراؤں کے کانٹے چکھے
مجھ کو پانے کےلیے جون کے روزے رکھے
میں ہوں دیوانہ سو دیوانوں سا اظہار کرے
میں جو دن بھی کہوں رات، وہ اقرار کرے
مجھ کو حسرت ہے کوءی یوں بھی مجھے پیار کرے
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
محبت آخرش کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نظم
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|