گھر سے نکلو ڈگریاں تھامے،
نور کے تڑکے سُوٹڈ بُوٹڈ،
سوموار کا دن ہے بابا،
کل کے اخباروں میں،
اچھے خاصے ایڈ چھپے تھے،
آج یہاں پر جانا ہے،
کل وہاں پر فون ہے کرنا،
پرسوں بھی اک میٹنگ ہے،
اس کے بعد فلاں صاحب نے،
دفتر مجھے بلایا ہے،
دیکھتا ہوں اب کیا بنتا ہے،
کئی ماہ سے یونہی ہر دن،
سڑکوں کی ہے دُھول مقدر،
\"اچھا خاصا لکھ لیتے ہو،
بول بھی اچھا لیتے ہو،
ایکٹیو بھی ہو،
سمارٹ بھی ہو تم،
خیر، ابھی تو پروسس کر لیں،
بعد میں یہ سب دیکھیں گے۔\"
ہر دفتر سے یہی ہوں سنتا،
ہر افسر بس یہی ہے کہتا،
یونہی ویک گزر جاتا ہے۔
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں