غزل { چراغ حسن حسرت } یا رب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے، وہ دست دعا ہوتا
ایک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یادل نہ دیا ہوتا، یا غم نہ دیا ہوتا
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا
امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہوجاتی
وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا
ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
غزل
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|