لا الٰہ الا اللہ { علامہ اقبال } خودی کا سر نہاں لاالٰہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الٰہ الا اللہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الٰہ الا اللہ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سودوزیاں، لاالٰہ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، لا الٰہ الا اللہ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لاالٰہ الا اللہ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الا اللہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الٰہ الا اللہ
(ضرب کلیم)
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
ساقي نامہ دعا لا الٰہ الا اللہ امامت پنجابی مسلمان دُنیا مُلا اور بہشت ساقی
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|