غزلیات { اسد اللہ خان غالب } نہ پوچھ نسخہء مرہم جراحتِ دل کا
کہ اس میں ریزہء الماس جزوِ اعظم ہے
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
وہ اِک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے
************
ہم رشک کو اپنے بھی، گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں، ولے ان کی تمنا نہیں کرتے
درپردہ انہیں غیر سے، ہے ربطِ نہانی
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردا نہیں کرتے
یہ باعثِ نومیدیِ ارباب ہوس ہے
غالب کو برا کہتے ہو، اچھا نہیں کرتے
*************
کرے ہے بادہ، ترے لب سے، کسبِ رنگِ فروغ
خطِ پیالہ، سرا سر نگاہ گلچیں ہے
کبھی تو اس سرِشوریدہ کی بھی داد ملے
کہ ایک عمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے
بجا ہے، گر نہ سنے، نالہ ہائے بلبلِ زار
کہ گوشِ گل، نم شبنم سے پنبہ آگیں ہے
اسد ہے نزع میں، چل بے وفا، برائے خدا!
مقام ترک حجاب و وداع تمکیں ہے
**************
کیوں نہ ہو جشم بتاں محو تغافل، کیوں نہ ہو؟
یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
مرتے مرتے، دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
وائے ناکامی! کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
عارض گل دیکھ، روئے یار یاد آیا اسد
جوشش فصل بہاری اشتیاق انگیز ہے
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
دو شعر غزلیات دیوانِ غالب
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|