دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے { پروین شاکر } دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے
حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!
کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ
الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ
ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں
سُن پائے اگر ایک تو دس جاکے حروف جڑے وہ
بچے کی طرح چاند کوچُھونے کی تمنا
دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ
طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے
کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|