ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا { پروین شاکر } ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا!
بجتے رہیں ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا!
تم موج موج مثل صبا گُھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر ،تُم کو اس سے کیا
اوروں کا ہاتھ تھامو ، انھیں راستہ دکھاؤ
میں بُھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا
ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض
سیپی میں بن نہ پائے گُہر،تم کو اس سے کیا!
لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے توڈال دی ہے سپر، تم کو اس سے کیا!
تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگالیے
تنہا کٹے کسی کا سفر ، تم کو اس سے کیا
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|