آج ہی یاد وہ آیا ہے بڑی شدت سے { طارق کلیم } آج ہی یاد وہ آیا ہے بڑی شدت سے
آج ہی ہم کو فراغت ہے خدا خیر کرے
قلب و قالب نہ پگھل جائیں کہاں ممکن ہے
پہلے بوسے کی حرارت ہے خدا خیر کرے
اک طرف شوق ملاقات ہے اور ایک طرف
میری عمروں کی ریاضت ہے خدا خیر کرے
اس کا انجام بہرطور تباہی ہو گا
تیری اپنے سے بغاوت ہے خدا خیر کرے
یہ میرا شوق شہادت، یہ گراں باری ء تیغ
اس کے ہاتھوں میں نزاکت ہے خدا خیر کرے
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
آج ہی یاد وہ آیا ہے بڑی شدت سے قطعات
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|