اک اک پتھر جوڑ کہ میں نے جو دیوار بنائی تھی { قتیل شفائی }
اک اک پتھر جوڑ کہ میں نے جو دیوار بنائی تھی
جھانکوں اس کے پیچھے تو رسوائی ہی رسوائی تھی
یوں لگتا ہے سوتے جاگتے اوروں کا محتاج ہوں
آنکھیں میرے اپنی ہیں پر ان میں نیند پرائی ہے
دیکھ رہے ہیں سب حیرت سے نیلے نیلے پانی کو
پوچھے کون سمندر سے تجھ میں کتنی گہرائی ہے
آج ہوا معلوم مجھے اس شہر کے چند سایوں سے
اپنی راہ بدلتے رہنا سب سے بڑی دانائی ہے
توڑ گئے پیمان وفا اس دور میں کیسے کیسے لوگ
یہ مت سوچ قتیل کہ بس اک یارتیرا ہرجائی ہے
اس شاعر کی مزید شاعری پڑھنے کے لئے کلک کریں
اک اک پتھر جوڑ کہ میں نے جو دیوار بنائی تھی
|
متفرق قاسم شاہ طارق کلیم عثمان جامعی افتخار عارف ناصر کاظمی عبیر ابو زری وصی شاہ ولی دکنی پرتو روحیلہ بیدل حیدری احمد فراز فیض احمد فیض حبیب جالب علامہ اقبال چراغ حسن حسرت حفیظ جالندھری اسد اللہ خان غالب منیر نیازی اختر شیرانی پروین شاکر قتیل شفائی امجد اسلام امجد
|