Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول










مختار عالم
  • نا قابل اشاعت
  • علامہ اقبال سے ایک گفتگو
  • گھڑی کا آسیب
  • میں کہ ایک پاکستانی



















  • نا قابل اشاعت

    مختار عالم

    تاریخ اشاعت : Thursday 03rd of December 2009 یہ کالم 311 دفہ پڑھا جا چکا ہے 


    سکول کے دنوں میں ایک محاورہ عجیب لگا کرتا تھا کوئلو ں کی دلالی میں منہ کالا ، اس رُو سے دلال بڑے ہی مضحکہ خیز کردار کے روپ میں ابھرکر سامنے آکھڑا ہوتا۔میلے کپڑے ، کالی "بوتھی " (جس کو وہ ایک مفلر نما کپڑے میں چھپائے رکھتا )،ہاتھو ں میں چند کو ئلے اور چھپ چھپ کر شرمندہ انداز میں گا ہکو ں کی تلاش۔ کوئلوں کی دلا لی کا زمانہ کافی پرانا ہو گا۔ تبھی تو کوئی ایسا شخص ہمیں اصل میں بڑے عرصہ تک نظر نہ آیا۔
    آغاصاحب کی مشہو ر زمانہ کتاب "اس بازار میں " پڑھنے اورسینما گھروں کی فلمیں دیکھنے کے بعد تصور نے بلوغت کی حدود میںقدم رکھاتو منظربہت آگے جا چکا تھا ۔ کوئلے ھیروں میں تبدیل ھو چکے تھے جنہیں ہا تھو ں میں لے کر گھو منے کی بجائے خاص کمروں مےں سجا دیا گیا تھا۔ اور ایک پوری منڈی میں چلتے پھرتے دلال منہ چھپانے والا کپٹرا کندھے پر رکھ چکے تھے۔ کپڑے اور منہ بھی دکھنے میں میلا تو نہ تھا لیکن وہ چُھپ جُھپ کر کام کرنے والی عادت بہر حال روایات کا حصہ بنی رہی۔ بہر حال ، کچھ بھی ہو، یہ پیشہ کبھی بھی معاشرے میں عزت نہ پا سکا۔ لیکن اس سے ہر گز یہ نہ سمجھا جائے کہ اس قماش کے دلال کوئی بالکل ہی گئے گزرے لوگ ہوتے ہوں گے۔ جی نہیں ! اُن کے دھندے کے بھی کچھ اصول تھے جس میں بہر حال یہ بات بہت اہم تھی کہ گاہک اور دوسری پارٹی کے درمیان باہمی رضامندی اورقیمت کا معاملہ طے کیا جاتا تھا ۔اور منڈی میں غلطی سے آجا نے والے غیر خریدار کو بہر حال زبردستی کچھ پیش نہ کیا جاتاتھا (آخر اس میںمشہو رزمانہ جگہ پر لوگ سری پائے کھانے بھی تو آتے تھے)
    پھر ہم نے فلموں میں ےہ بھی دیکھا کہ دورانِ مُجرا یہ دلال پورے پروگرام میں کم کم ہی نظر آتے اور بہت بےچارگی کے مارے لگا کرتے۔
    بھٹو صاحب کے دور میں اِس مشہور زمانہ بازار پر پابندی لگی تو صاحب حیثیت طوائفیں وہاں سے ہجرت کر کے نسبتاً بہتر علاقوں میں آباد ہوگئیں اور دھندے کا انداز بھی بدل گیا ۔
    ایک روز ہمارے اک دوست بتا رہے تھے کہ کئی اداروں کی آڑ میں بھی بہت کچھ ہونے لگا ہے۔ بالخصوص فلم اور سٹیج کو تو انہوں نے خاص تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ۔
    لا حول ولا قوۃ ۔ ہم اپنے دوست سے لڑ پڑے۔ یار ! اب فنکاروں کی مٹی تو مت پلید کرو۔ یہ تو قوم کا سرمایہ ہیں ۔ بھئی ہم تو اُس روز خوب ناراض ہوئے۔ کئی روز سوچ میں گم رہے۔ واقعی بھلا وہ دلال گئے کہاں؟ کیا واقعی وہ کچھ اداروں میں چھپے بیٹھے ہیں؟۔ اگر کبھی کوئی ایسا اداراہ منظر عام پر آیا تو قوم پر کیا گزرے گی؟ کئی دن بہت کرب میں گزرے ۔
    ایک روز اسی دوست کا فون آیا بولے، بھئی فوری ٹی وی لگاؤ اور دیکھو طالبات کے سپورٹس ڈے پر منظر کیسا رقصاں ہے۔ ہم نے دھڑکتے دل اور لرزتے ہاتھوں سے ٹی وی کھولا تو قوم کی بیٹیاں ایک صاحب اقتدار کی فرمائش پر ’پرفارمنس‘ دے رہی تھیں۔ ہم نے اپنے دوست سے پوچھا کیا یہ قوم کی فرمائش پر دکھا یا جارہا ہے؟
    موصوف نے بتایا ہرگز نہیں۔
    تو پھر کون کروار ہا ہے یہ سب؟ یہ بچیاں تو گھروں سے پڑہنے کے لیے آئی ہیں، ہم بوکھلا کر بولے۔
    بھائی، اداروں کے سربراہوں کی مرضی چلتی ہے، وہ رسان سے بولے۔
    یعنی آپ کا مطلب ہے کہ ایک تعلیمی ادارے کا سربراہ یہ سب کرا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آپ میرے دماغ میں یہ بات ڈالنا چاہ رہے ہیں کہ اساتذہ اس کے ذمہ دار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان بیٹیوں کے روحانی باپ یہ سب کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آپ بکواس کررہے ہیں!
    ہم نے فون پٹک دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
    چشم باطن نے اُس روز پوری قوم کو روتے دیکھا
    اسلاف کو تڑپتے دیکھا
    اساتذہ کو زہر کے گھونٹ نگلتے دیکھا
    صرف چند لوگ بہت خوش تھے
    وہی ۔۔۔۔چند خاص قسم کے ادارے چلانے والے۔







    Email This Page
    Your Feedback
    © 2010 Friends Media . All Rights Reserved.