Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول










خصوصی مضامین
  • ہم جنہیں ر سم دعا یاد نہیں!!
  • اے خیر کے طا لب آگے بڑھ
  • ”معصوم گنہگار “
  • نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر .....سائنسی بنیادوں پر آبی وسائل کی حفاظت ۔ ۔ ۔ ۔ وقت کا تقاضا
  • سہراب خان گوٹھ میں مفت طبی کیمپ اور چھپر اسکول کا افتتاح

  • مزیدکالم














    مشرقی اور مغربی سرحدوں پر امید کی کرنوں کا ظہور (سلیم صافی)

    خصوصی مضامین

    تاریخ اشاعت : Tuesday 09th of February 2010 یہ کالم 405 دفہ پڑھا جا چکا ہے 

    پاکستان ایران ہے اور نہ چین۔ وہ دونوں عرصے سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر امریکہ کی مرضی کے بغیر جینے کا سلیقہ سیکھ چکے ہیں۔ ہمارا معاملہ الٹ ہے ۔ ہمارے حکمرانوں نے شروع دن سے اس ملک کو امریکہ کے پلے باندھ لیا تھا۔ حکمران تو کیا ہمارے مذہبی سیاسی لیڈر بھی سردجنگ کے دنوں میں امریکی خیرات سے مستفید ہوچکے ہیں۔ یوں نائن الیون کے بعد امریکہ کو یکسر ”نا“ میں جواب دینا شاید ممکن نہیں تھا۔ تب ایسی جذباتی فضابن گئی تھی کہ مذکورہ ممالک بھی امریکہ کے مقابل آنے سے گریزاں تھے۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جس قرارداد کے تحت کاروائی ہوئی ‘ اس کی ڈرافٹنگ چین سے کروائی گئی تھی۔ ایران نے بھی عراق جنگ تک امریکہ کے ساتھ درپردہ مگر زبردست تعاون کی پالیسی اپنائے رکھی چین اور ایران کے برعکس ہم احساس ندامت کا شکار تھے اور ہماری اخلاقی پوزیشن بھی کمزور تھی ۔ طالبان کے خالق اور سپورٹر ہم ہی تھے ۔طالبان کے افغانستان سے القاعدہ امریکہ کو للکار رہا تھا لیکن نائن الیون تک ہم نے القاعدہ سے متعلق بھی اعراض کی پالیسی اپنائی ہوئی تھی ‘جبکہ چین یا ایران نے ایسا کوئی کام نہیں کیا تھا۔ ایران تو امریکہ سے بھی پہلے طالبان کے خلاف برسرپیکار تھا جبکہ چین نے بھی اپنے آپ کو طالبان سے دور رکھا تھا۔ یوں جب افغانستان میں موجودالقاعدہ پر نائن الیون کے واقعات کا الزام آیا تو امریکہ اور دنیا کی نگاہیں بھی لامحالہ ہماری طرف ہی اٹھنے لگیں‘ لیکن ان سب کچھ کے باوجود اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پرویز مشرف نے طالبان اور پاکستانیوں کو نہایت سستے داموں فروخت کیا۔ تعاون مجبوری تھی لیکن انہوں نے بے دریغ تعاون کیا۔ حد سے زیادہ تابعداری کی ۔ امریکیوں کو دیا بہت کچھ لیکن جواب میں لیا کچھ نہیں اور جو کچھ لیا وہ بھی قوم کے لئے نہیں بلکہ اپنی ذات اور اقتدار کے لئے لیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حصے میں تباہی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں آیا۔
    لیبیا کے ایک وزیر سے کچھ عرصہ قبل ملاقات ہوئی ۔ وہ اپنے تجربے کی روشنی میں بتارہے تھے کہ امریکی اس قوم کی قدر نہیں کرتے جو خود اپنی قدر نہیں کرتی اور جو قوم اپنا قدرکرتی ہے ‘ امریکی بھی اسے عزت دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کسی حد تک ہم نے اپنی قدر شروع کی تو امریکی بھی کسی حد تک ہماری قدر کرنے لگے ۔ کیری لوگر بل میں شرمناک شرائط رکھنے کے بعد عسکری قیادت نے جواب دینے کے لئے تھوڑے سے تھیور بدل دئے ۔ رحمان ملک صاحب کو ڈرا کر بہادر بنایا ۔جعلی نمبرپلیٹوں کے ساتھ دندناتے پھرنے والے امریکیوں کو جگہ جگہ روکا گیا۔ بغیر کسی مناسب توجیح کے پاکستان میں آنے والے امریکیوں کو ویزے دینے سے انکار کردیا گیا۔ دباؤ ڈالنے کے لئے امریکہ نے امداد کی قسط روک دی اور جواب میں پاکستان کو بھارت سے دبانے میں لگ گیا ۔ رابرٹ گیٹس نے بھارت میں کھڑے ہوکر پاکستان کو بھارت سے ڈرانے کی کوشش کرتے ہوئے بیہودہ بیان داغ ڈالا تو ادھر سے افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل اطہرعباس نے اس بیان کے ساتھ جواب دے دیا کہ شمالی وزیرستان میں ایک سال تک آپریشن نہیں کرسکتے ۔ یہ چند اشارے تھے امریکیوں کے لئے کہ ہم اپنی قدر کرنے کی طرف گامزن ہیں ‘ چنانچہ امریکی بھی سدھرنے لگے ۔ امریکیوں نے کوئٹہ شوریٰ کا ذکر کرنا چھوڑ دیاہے ۔ پاکستان پر ڈبل گیم کے الزامات اب اس شدت سے نہیں لگ رہے جس شدت سے ماضی میں لگتے رہے ۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق افواہوں میں بھی کمی آئی ہے ۔ ترکی میں سہہ فریقی (پاکستان‘ افغانستان اور ترکی) کی سربراہی کانفرنس میں پہلی مرتبہ امریکی ایما پر بھارت کو بھی مدعو کیا گیا تھا اور من موہن سنگھ صاحب ہنسی خوشی سونیا جی سے مشاور ت کرکے جانے کی تیاری بھی کرچکے تھے لیکن پاکستان کے احتجاج پر ترک حکومت نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہہ دیا کہ آپ کے آنے کی ضرورت نہیں۔ لندن کانفرنس کا میلہ اس غرض سے سجا دیا گیا تھا کہ اس میں افغانستان کے مستقبل کی صورت کشی کے لئے پڑوسی ممالک اور بھارت پر مشتمل گروپ تشکیل دیا جائے لیکن پاکستان کے احتجاج پر اس منصوبے کو بھی ترک کردیا گیا۔ افغان فوج کو بھارتی افواج کے ذریعے تربیت دینے کا منصوبہ بھی خواب ثابت ہوگیا۔ دوسری طرف ایران اور افغانستان کے وزرائے خارجہ ‘ افغانستان کے مستقبل پر غور کے لئے ہندوستان اور امریکہ کو ناراض کرکے پاکستان آگئے ۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نیٹو کے ہیڈکوارٹر برسلز گئے اور نیٹو ممالک کی افواج کے سربراہوں پر واضح کیا کہ جب تک ہندوستان نے یہ روش اپنارکھی ہے ‘ ہم انڈیا سنٹرک رہیں گے اور آپ لاکھ چاہیں ہم مشرقی سرحد کو نظرانداز کرکے تمام تر توجہ مغربی سرحد پر مرکوز نہیں کرسکتے ۔ چنانچہ امریکیوں کی عقل بھی ٹھکانے آنے لگی اور ہندوستانیوں کی بھی ۔ امریکی افواج کے سربراہ مائیک مولن نے امریکی عوام کے منتخب نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں اور کردار کو سراہا ۔ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پہلی مرتبہ ہندوستان اور پاکستان کے تنازعات کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کے خاتمے کے بغیر خطے میں امن نہیں آسکتا ۔ چنانچہ ایک طرف امریکہ پہلی مرتبہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو اہمیت دینے لگا اور دوسری طرف واشنگٹن سے اشارہ ملنے پر ہندوستان نے جامع مذاکرات کے آغاز کا پیغام بھیج دیا۔
    پاکستان مشکل دور سے گزرا اور گزر رہا ہے ۔ مغربی بارڈر پر آگ و خون کا کھیل جاری ہے جو اسلام آبادا ورلاہور کے بعد اب کراچی تک پھیل رہا ہے۔ دوسری طرف مشرقی بارڈر پر کئی گنا طاقتور دشمن دھمکیاں دے رہا تھا۔ اچانک دونوں سرحدوں پر امید کی کرنیں نمودار ہونے لگی ہیں ۔اپنی حماقتوں‘ پڑوسیوں کی شرارتوں اور طالبان و حزب اسلامی کی ناقابل یقین مزاحمت سے امریکی افغانستان میں پھنس گئے ۔
    دباؤ بھی پاکستان پر ہے لیکن باعزت واپسی کے لئے اس کا انحصار بھی پاکستان پر ہے ۔ امریکی افغانستان سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں (نکلنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مکمل طور پر نکل جائیں گے بلکہ کسی نہ کسی شکل میں اپنی موجودگی پھر بھی برقرار رکھیں گے)۔ سیاسی حل کی بات کررہے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کو رول دینے پربھی آمادہ ہیں ۔ افغان قیادت پہلی مرتبہ پاکستان کے بارے میں زہرفشانی سے گریزاں ہیں اور کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے پہلی مرتبہ شاندار اور فعال کردار کی وجہ سے شمال اور وسطی افغانستان کے پاکستان مخالف لیڈر بھی پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہش ظاہر کررہے ہیں ۔ دوسری طرف دھمکیوں اور نازنخروں کے ایک طویل سلسلے کے بعد ہندوستان نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ اب یہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کا امتحان ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔ قوم کو اعتماد میں لے کر پراعتماد انداز میں اپنا کیس پیش کیااور اپنے پتے صحیح طریقے سے کھیلے تو دونوں سرحدوں پر موجود ان خطرات کو کم بلکہ ختم کیا جاسکتا ہے لیکن اس موقع کو بھی ضائع کردیا گیا۔حسب سابق سیاسی اور عسکری قیادت ‘ سرحد سے باہر دشمنوں کی بجائے ایک دوسرے کو دشمن بناتی رہی اور عالمی اور علاقائی قوتوں کے سامنے یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو ایکسپوز کرتی رہی ‘ تو پھر رسوائی اور تباہی سے مفر ممکن نہیں رہے گا۔ خاکم بدہن پھر ایسی تباہی آئے گی کہ جس کے شعلوں سے اربوں کھربوں میں کھیلنے والے زردار محفوظ رہ سکیں گے ‘ مذہب فروش رہنما بچ سکیں گے دانش فروش اور فتویٰ فروش دانشوروں کواپنی دانشوری فروخت کرنے کا مزید موقع ہاتھ آسکے گا‘قوم فروش ‘ قوم پرستوں کے قوم فروشی کا دھندہ مزید چل سکے گا‘ اپنی باری کا انتظار کرنے والے مقبول لیڈر وں کو اپنی باری نصیب ہوسکے گی اور نہ پاکستان کے چاچوں اور ماموں کو کچھ ہاتھ آسکے گا۔اس لئے خدارا! اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ چند لمحوں کے لًے ذاتی ‘ گروہی اور ادارہ جاتی مفادات سے بالاتر ہوکر ‘امید کی ان کرنوں کو روشن مستقبل کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرلیجئے۔






    Email This Page
    Your Feedback
    © 2010 Friends Media . All Rights Reserved.