آسمان اسی طرح رنگ بدلتا ہے کہ کبھی کے حکمران کبھی عوام کی ٹھوکروں میں آجاتے ہیں۔ اس خبر کے ساتھ تصویر یہی سبق سنا رہی ہے۔ اسی خبرنگار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سرکاری محکموں کی گاڑیاں دوہزار سات کے اواخر میں لاہور کی سڑکوں پر پاکستان مسلم لیگ ق کے انتخابی نشان سائیکل کے اشتہار لگا رہی تھیں۔ کپڑے کے بنے بینر نما اشتہار مال روڈ ، گلبرگ، فیروز پور روڈ، جیل روڈ اور شہر کی دیگر اہم شاہراہوں پر لگائے گئے تھے۔ یہ بینر سرکاری اہلکاروں نے صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی اتنی تندہی سے لگائے تھے کہ ایک صبح جب لوگ اپنے گھروں سے نکلے تو انہوں نے اپنے ارد گرد انتخابی نشان ‘سائیکل’ کی بہار دیکھی۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ کل کے حکمران آج ملک کے سیاسی منظر نامے میں اپنی جگہ تلاش کرنے کے لیے کبھی تو پاکستان پیپلز پارٹی کو اشارے کرتے ہیں اور کبھی پاکستان مسلم لیگ نواز کو پکارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پارٹی کے دو اہم ترین عہدیدار یعنی چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے پاس اپنی جماعت کے مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ موجود ہے نہ پروگرام۔ بس کبھی کبھی ٹی وی پر آکر یہ دونوں اپنے آٹھ سالہ ماضی کو صاف کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
کل تک ملکی اسٹیبلیشمنٹ کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی پاکستان مسلم لیگ ق کے انتخابی نشان لیے بینر کی یہ وقعت ہے کہ لاہور میں لبرٹی مارکیٹ کے قریب ایک چوراہے پر بنے گراؤنڈ میں گوبر کی کھاد ڈا لنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
آپ اس تصویر میں جو گاڑی دیکھ رہے ہیں وہ پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کی ہے۔ اسی ادارے کی گاڑیاں صوبے بھر میں پاکستان مسلم لیگ ق کے بینر لگارہی تھیں، اور یہی ادارہ ان بینرز کو غلیظ قدرتی کھاد ڈالنے کے لیے استعمال کررہا ہے۔ یہ ہے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی دوستی اور یہ ہے کل کر کروفر۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔
6 فروری 2010
|