Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول






صفحہ اول  
پاکستان  
جنوبی ایشیا  
مسلم دنیا  
دنیا  
معیشت  
شوبز  
ٹیکنالوجی  
سائینس  
خصوصی رپورٹس  
انٹرویو  

سرورق  

پاکستان




پاکستان مسلم لیگ ق کے بینرز کا استعمال

| More

آسمان اسی طرح رنگ بدلتا ہے کہ کبھی کے حکمران کبھی عوام کی ٹھوکروں میں آجاتے ہیں۔ اس خبر کے ساتھ تصویر یہی سبق سنا رہی ہے۔ اسی خبرنگار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سرکاری محکموں کی گاڑیاں دوہزار سات کے اواخر میں لاہور کی سڑکوں پر پاکستان مسلم لیگ ق کے انتخابی نشان سائیکل کے اشتہار لگا رہی تھیں۔ کپڑے کے بنے بینر نما اشتہار مال روڈ ، گلبرگ، فیروز پور روڈ، جیل روڈ اور شہر کی دیگر اہم شاہراہوں پر لگائے گئے تھے۔ یہ بینر سرکاری اہلکاروں نے صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی اتنی تندہی سے لگائے تھے کہ ایک صبح جب لوگ اپنے گھروں سے نکلے تو انہوں نے اپنے ارد گرد انتخابی نشان ‘سائیکل’ کی بہار دیکھی۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ کل کے حکمران آج ملک کے سیاسی منظر نامے میں اپنی جگہ تلاش کرنے کے لیے کبھی تو پاکستان پیپلز پارٹی کو اشارے کرتے ہیں اور کبھی پاکستان مسلم لیگ نواز کو پکارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پارٹی کے دو اہم ترین عہدیدار یعنی چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے پاس اپنی جماعت کے مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ موجود ہے نہ پروگرام۔ بس کبھی کبھی ٹی وی پر آکر یہ دونوں اپنے آٹھ سالہ ماضی کو صاف کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
کل تک ملکی اسٹیبلیشمنٹ کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی پاکستان مسلم لیگ ق کے انتخابی نشان لیے بینر کی یہ وقعت ہے کہ لاہور میں لبرٹی مارکیٹ کے قریب ایک چوراہے پر بنے گراؤنڈ میں گوبر کی کھاد ڈا لنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
آپ اس تصویر میں جو گاڑی دیکھ رہے ہیں وہ پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کی ہے۔ اسی ادارے کی گاڑیاں صوبے بھر میں پاکستان مسلم لیگ ق کے بینر لگارہی تھیں، اور یہی ادارہ ان بینرز کو غلیظ قدرتی کھاد ڈالنے کے لیے استعمال کررہا ہے۔ یہ ہے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی دوستی اور یہ ہے کل کر کروفر۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔
6 فروری 2010






Email This Page
Your Feedback
© 2010 Friends Media . All Rights Reserved.