پشاور. چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی کمی کے باعث انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ آئین کی بالادستی کے بغیر انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔ سرحد حکومت مالاکنڈ میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں اضافہ کرے۔
پشاور سپریم کورٹ برانچ رجسٹری میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی کمی پوری ہونی چاہیئے تاکہ فوری انصاف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔تقرری آئین کے مطابق ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا لوگوں کی عدلیہ سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، اس لئے انصاف ایسا ہو جو سب کوہوتا نظر آئے، اس ضمن میں بنچ اوربار کومزید قریب لانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے کرپشن کامکمل خاتمہ کریں گے، وکلاء کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کاجواب دیتے ہوئے چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اگر ملک میں قانون کی عمل داری اور آئین کی بالادستی پر عمل ہو تومعاملات خود بخود صحیح سمت پر گامزن ہوجائیں گے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے ان کاکہنا تھا کہ وہ پاکستانی حدود سے باہر ہے جبکہ لاپتہ افراد کے بارے میں کیسز چل رہے ہیں۔ اسی طرح اگر آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو وکلاء ثبوت اور اعداد و شمار کے ساتھ پٹیشن لائیں ۔ انہوں نے سرحد حکومت پر زور دیا کہ وہ ملاکنڈ میں انسداد دہشت گردی عدالتوں میں اضافہ کرے اور اگر سرحد حکومت وسائل اور انفرااسٹرکچر مہیاکریگی توچیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ملاکنڈ ڈویژن میں دارالقضاء کیلئے قاضیوں کی تعیناتی کردیں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمدچوہدری نے پشاورمیں سینئرقانون دان سردار محمد خان کی وفات پر فاتحہ خوانی کی۔ پشاور پہنچنے پر چیف جسٹس ایئرپورٹ سے سردارخان کی رہائش گاہ پر پہنچے، ان کے ہمراہ چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ جسٹس اعجاز افضل خان، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور، پشاورہائی کورٹ بار کے صدر ایس ایم عتیق شاہ، ایڈوکیٹ جنرل ضیاء الرحمان اورسینئر وکلاء بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس نے مرحوم کے صاحبزادے سے تعزیت کی اوربطور قانون دان ان کی خدمات کااعتراف کیا۔
8 فروری, 2010
|