Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول






صفحہ اول  
پاکستان  
جنوبی ایشیا  
مسلم دنیا  
دنیا  
معیشت  
شوبز  
ٹیکنالوجی  
سائینس  
خصوصی رپورٹس  
انٹرویو  

سرورق  

پاکستان




مسئلہ کشمیر پر بھارت سے اعتماد سازی میں پیش رفت ہوئی ہے ۔ قریشی

| More

اسلام آباد + نئی دہلی. وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر پر اعتماد سازی میں پیشرفت ہوئی ۔ کشمیریوں کی خواہشات نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ شاہ محمود قریشی نے بھارتی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور یہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر بھی ہے ۔ اس لئے پاکستان اور بھارت کو اس معاملے پر سازگار ماحول بنانے کے لئے کشمیریوں سے مشاورت کے ساتھ باہمی اعتماد سازی میں اضافہ کرنا ہو گا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان جامع مذاکرات کے طریقہ کار پر متفق ہو گئے ہیں ۔

اسلام آباد سمجھتا ہے کہ خطے کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جو کچھ ممبئی میں ہوا وہ افسوسناک تھا ۔ پاکستان نے ممبئی حملوں کے الزام میں 7 ملزمان کو گرفتار کیا ہے جو اس معاملے پر پاکستان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کے معاملے پر تیسرے فریق اور محض دستاویزات کا تبادلہ مفید نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لئے فریقین کو آمنے سامنے بیٹھ کر راستہ نکالنا ہو گا ۔ دریں اثناء ایک نجی ٹی وی سے ا نٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے اور عالمی برادری بھی اس کے حق میں ہے ۔ بھارتی حکام کے الزامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی سوچ مثبت رکھنی چاہیئے اور بے بنیاد الزامات کو نظر انداز کردینا چاہیئے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی مذاکرات کی پیشکش پر صلاح مشورے کے لیے بلائے جانے والے اجلاس میں پاکستانی ہائی کمشنر اور بھارتی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات میں پیش کی جانے والی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ اور اس حوالے سے تاریخوں کے بارے میں بھی سوچا جائے گا ۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ان کی خواہش ہے کہ اس اجلاس میں بھارتی فوج کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں اور بعد میں حکومتی سطح پر مشاورت کی جائے اور متعلقین کی آراء کو سامنے رکھ کر نطقہ نظر پیش کیا جائے ۔بھارتی حکام کی جانب سے الزام تراشیوں اور اشتعال انگیز بیانات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی پی ایل پر جو کچھ ہوا اس پر بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھیں اور لوگوں نے اس پر تنقید کی ۔ ادارئیے لکھے گئے اورمیڈیا نے اسے تنگ نظری سے منسوب کیا ۔ بالاخر بھارتی حکومت اور بھارتی دفتر خارجہ کو اس حرکت سے لاتعلقی کا اظہار کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام خصوصا بھارتی آرمی چیف کے بیان کو بھی اکثریت نے تنقید کا نشانہ بنایا یہاںتک کہ بھارتی حکومت نے بھی اس کا نوٹس لیااور کہا کہ آڑمی چیف کو ایسے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیئے ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ سب کچھ پاکستان کے اصولی موقف کی تائید میں ہوا ۔ آج نہ صرف برصغیر میں بلکہ عالمی سطح پر بھی رائے عامہ پاکستانیموقف کو تسلیم کرتی ہے اور پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کی حمایت کی اج رہی ہے ۔ اور لندن کانفرنس میں بھی پاکستان کے کردار کو دنیا نے سراہا ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے خیال میں بعض دشواریوں کے باوجود ہمیں اپنی سوچ کو مثبت چاہیئے اور افغانستان میں امن وا ستحکام کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان ، خطے اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن کانفرنس میں بھارت کا کردار بھی مثبت تھا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں بہرحال ایک طبقہ ایسا ہے جو اشتعال انگیز بیان بازی کرتا رہتا ہے اس لیے اس طرح کے شر انگیز بیانات کو زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیئے

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کے واقعی کچھ تحفظات ہیں تووہ میز پر آئے اور ہمارے سامنے رکھے اور ہمارے تحفظات بھی سنے ان پر غور کیا جائے اور کوئی راستہ نکالا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ محض بیان بازی یا میڈیا جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ یہ سنجیدہ مسائل ہیں اس لیے ان پر سنجیدگی سے باہمی غورو فکر ہونی چاہیئے ۔

8 فروری, 2010






Email This Page
Your Feedback
© 2010 Friends Media . All Rights Reserved.