Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول






صفحہ اول  
پاکستان  
جنوبی ایشیا  
مسلم دنیا  
دنیا  
معیشت  
شوبز  
ٹیکنالوجی  
سائینس  
خصوصی رپورٹس  
انٹرویو  

سرورق  

پاکستان




میڈیا کے خلاف قراردادتمام جماعتوں کی غلطی تھی،شیریں رحمن

| More

کراچی: پنجاب اسمبلی میں میڈیاکے خلاف منظور کی گئی قراداد کو حکومتی واپوزیشن جماعتوں نے پیش اور منظور کیا ،یہ ایک غلط اقدام تھا،صحافت پر پابندی کے لئے کسی بھی عنوان سے لایا جانے والا بل غلط ہو گا،سیاسی مسائل حل کرنے کے خواہاں میڈیا کو خود بھی اکٹھا ہو کر اپنے لئے ضابطہ اخلاق بنانا ہو گا،خواتین صحافیوں کوقانونی امداد کی فراہمی کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط اہم قدم ہے۔ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی شیریں رحمن نے ہفتہ کوکراچی یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام منعقدہ ویمن جرنلسٹ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر کے ےو جے کے صدر افضال محسن،کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران،کے ےو جے کے قائم مقام جنرل سیکرٹری نعیم طاہر،آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ اور کے ےو جے کے خزانچی راجہ کامران،کمیٹی کی شریک سربراہ و نائب صدرصوفیہ یزدانی،سمیت پاکستان ویمن لائرز ایسوسی ایشن کی صدرنور ناز آغا،معروف صحافی ریحانہ افروز،غزالہ یاسمین،خورشید حیدر،سبین آغا،،حمیرا علوانی،رفعیہ تاج،نازیہ ظفر اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والی خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد موجودتھی۔شہر کی صحافتی تاریخ میں منعقدہ پہلے ویمن جرنلسٹ کنونشن کے موقع پر پاکستان ویمن لائرز ایسوسی ایشن (پاﺅلا)اور کے ےو جے کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت خواتین صحافیوں کو درپیش قانونی مسائل میں ان کی رہنمائی اور مفت قانونی معاونت کی فراہمی پر اتفاق کیا گیا۔معاہدے کے تحت پاﺅلا کی جانب سے کے ےو جے کی خواتین ارکان کو بلامعاوضہ قانونی امداد مہیا کی جائے گی۔ شیری رحمن نے اپنے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کوجتنی کچھ آزادی میسرہے اس کے لئے بڑی قربانیاں دی گئی ہیں اسے برقرار رکھنے کے لئے آئندہ بھی جدوجہد کرنا ہو گی کوئی پلیٹ میں رکھ کر حقوق مہیا نہیں کرے گا۔پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس عمل میں اسمبلی میں موجود تمام جماعتیں شریک تھیں تاہم یہ اقدام مرکزی قیادتوں کولاعلم رکھ کر کیاگیا تھا۔قبل ازیں کے ےو جے کے صدر سید افضال محسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں خواتین بھی عامل صحافیوں کے طور پر کام کر رہی ہیں جنہیں اپنے پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے دوران متعدد سنگین مسائل کا سامنا ہے۔اس کنونشن کا مقصد ان معاملات پرگفتگو کے ذریعے کسی بہتر حل تک پہنچنے کی کوشش تھا۔خواتین صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اپنے کیرئیر کو بہتر بنانے کے لئے انہیں پیشہ وارانہ اور گھریلو زندگی میں توازن قائم رکھنا ہو گا۔فیلڈ میں پیش آنے والی مشکلات سے نکلنے اور ان کا سامنا کرنے کے لئے کے ےو جے آئندہ بھی مشاورتی فورمز کا سلسلہ جاری رکھے گی۔پاﺅلا کی صدر نور ناز آغا نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل اپنے خطاب میں کہا کہ ورکنگ ویمن کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے متعدد قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد اور ان کے متعلق آگاہی موجود نہیں ہے جسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔ریحانہ افروز نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی خاتون صحافی مسلمان ہونے کے ناطے سنہری تاریخ رکھتی ہے جو مسلم خواتین کی جراآت،تدبر اور حوصلہ مندی کے واقعات سے عبارت ہے۔غزالہ یاسمین کا کہنا تھاکہ اپنے حقوق کی طلب کے ساتھ فرائض کی ادائیگی میں توازن پید اکر کے خواتین صحافی پیش آمدہ مشکلات کا سامنا بہتر طور پر کر سکتی ہیں۔معروف خاتون صحافی سبین آغا نے ایک خاتون رپورٹر کو پیش آنے والے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے اپنے تجربات کی بنیاد پر متعددامور کے حل تجویز کئے۔

24 جولائ 2010








Email This Page
Your Feedback
© 2010 Friends Media . All Rights Reserved.