اسلام آباد: مشیر ہائیر ایجوکیش کمیشن محمود رضا نے کہا ہے کہ کسی جعلی ڈگری ہولڈر کا نام میڈیا کو نہیں بتایا جائے گا۔ ایچ ایس سی کو ڈگریوں کی تصدیق کا اختیار ہے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ مشیر ایچ ایس سی محمود رضا نے کہا کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن وزیر اعظم کو جوابدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک چھیالیس ڈگریاں جعلی نکلی ہیں۔دو سو چویبس ڈگریاں درست ہیں جب کہ گیارہ کا معاملہ عدالت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈگریوں کی تصدیق کے لیئے ملک بھر کی جامعات کو ستائیس جولائی کی ڈیڈ لاین دی ہے۔
دوسری جانب ارکان پارلیمینٹ کی اسناد کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے ۔ ہائرایجوکیشن کمیشن نے چار مزید اراکین پارلیمینٹ کی ڈگریاں جعلی قرار دے دی ۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی پنجاب طارق محمود الوانہ اور رکن صوبائی اسمبلی سندھ جام اکرام اللہ دریجو سمیت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی مولوی آغا محمد اورپاکستان مسلم لیگ (ق) کے خان محمد طور کی ڈگریاں جعلی ثابت ۔ پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی طارق محمود الوانہ پی پی ایک سو بیس منڈی بہاو الدین سے رکن منتخب ہوئے تھے ۔
انہوں نے آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری ظاہر کی تھی ،تاہم یونیورسٹی کے پاس انکی ڈگری کے حوالےسے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ۔ پیپلز پارٹی کے ہی دوسرے رکن صوبائی اسمبلی سندھ جام اکرام اللہ دریجو پی پی چھ گھوٹکی سے رکن منتخب ہوئے تھے ۔جام اکرام نے شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیر پور سے بی اے اور ایم اے کی ڈگری ظاہر کی تھی، جن پروائس چانسلراور رجسٹرار کے دستخط موجود نہیں تھے ۔ جسے ایچ ای سی نے جعلی قرار دے دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رکن صوبائی اسمبلی خان محمد طور اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی مولوی آغا محمد کی ڈگری بھی جعلی قرار دے دی گئی ہے ۔
27 جولائ 2010
|