Shanakht Pakistan

 

اردو ادب


کالم


خبریں


صفحہ اول




 افسانہ  افسانہ نگاروں کی فہرست
کعبہ میرے پیچھے  { بانو قدسیہ }
سفر اور علیحدگی کی آخری چیک پوسٹ جدہ ائرپورٹ تھی!
طلعت میرے ساتھ عمرہ کرنے آئی ضرور تھی لیکن یہ طے تھا کہ طلعت اور میری سانولی بیٹی زینب عمرے کے بعد امریکہ واپس چلی جائیں گی اور میں مستقل طور پر مدینہ شریف میں رہنے لگوں گا۔ جدہ ایئرپورٹ سے ہم دونوں کی راہیں علیحدہ ہوجائیں گی۔
طلعت امریکہ چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ بلکہ یوں سمجھئے امریکہ اس سے چھٹتا نہیں تھا۔ اسے امریکہ سے محبت نہ تھی، پھر بھی وہ اسی ایک ملک میں کمفرٹیبل تھی۔ میں امریکہ کا شکر گزار تھا، مجھے اس ملک کے سادہ عوام سے محبت تھی۔ لیکن میں اب مزید وہاں رہنا نہ چاہتا تھا۔ طلعت امریکہ اور پاکستان پر بے دریغ منفی تنقید کرتی رہتی۔ میں نے ان دونوں ملکوں پر کبھی تبصرہ نہ کیا۔ ایک میری جنم بھومی تھی، دوسرے ملک نے مجھے میری خواہشوں کی مثبت تعبیر عطا کی تھی۔ لیکن اب مجھے کسی ماں کی تلاش نہ تھی، نہ اصلی نہ نقلی ماں کی۔ میں جان گیا تھا کہ امریکہ جسمانی خواہشوں کو ابھارنے اور پھر پورا کرنے میں ثانی نہیں رکھتا۔لیکن ذہنی، جذباتی اور روحانی طور پر نہ جانے کیوں میں بے حد ننگا بوچا، تھوتھا اور قدرے نالائق ہو گیا تھا۔ پاکستان لوٹ جانے کی خواہش اس لئے جھڑ گئی کہ وہاں بڑے برس میری جسمانی خواہشیں تشنہ اور میری ذات صفر رہی۔ میں چلتا پھرتا مردہ بن گیا۔ پچھلے پندرہ سالوں میں پانچ بار میں نے وطن لوٹ جانے کی ناکام کوشش کی۔ لوٹ لوٹ کر اپنے آبائی گھر میں ٹھہرا۔ بار بار اپنے ہی دیس میں اجنبی بن کر دوسروں کے چہرے ٹٹولتا رہا۔ پاکستان میں سب لوگ صرف اپنی زندگی گزار رہے تھے۔ پتہ نہیں پاکستانی کس کوڈ آف لائف کے پابند ہوگئے تھے یا کر دیئے گئے تھے۔ ہر شخص کسی نہ کسی سسٹم کو توڑنے میں جتا ہوا تھا۔ امیر گھروں میں گھریلو کاموں کے لئے ملازمین کی پلٹنیں تھیں، وہاں سیلف ہیلپ کا کوئی تصور نہ تھا۔ متوسط طبقے میں سفارش اور رشوت کا ایک مسلسل چکر تھا۔ غریب لوگوں سے میرا واسطہ کم پڑتا لیکن جب کسی غریب سے ٹاکرا ہوجاتا تو مجھے بدتمیزی، دھوکا دہی، دھونس ہی سے پالا پڑتا.... امریکہ میں رہنے کے بعد یہ باتیں عجیب لگتی تھیں۔ میں جتنی بار پاکستان گیا، مستقل واپسی کا خواب میرے ساتھ تھا۔ لیکن اپنے ہر لمبے اور چھوٹے قیام کے دوران مجھے اپنی عزت بچانے، بنانے اور ابھارنے ہی کا کام رہا.... ہو سکتا ہے کہ میرے قیافے غلط ہوں یا پھر میں آزاد راسخ عقیدہ اور حقیقی لوگوں سے مل ہی نہ پایا ہوں۔ لیکن ہر بار میرا تاثر یہی رہا کہ میں اگر پاکستان میں لوٹ گیا تو دوسروں کا استحصال کئے بغیر میں سوسائٹی کا ایک کارآمد پرزہ نہیں بن سکتا۔
پاکستان لوٹ جانے میں جو بھی وجوہات مانع تھیں، اپنی جگہ.... لیکن امریکہ میں بھی میرا دم گھٹنے لگا۔ وہاں میری اندر کی زندگی ایسی تھی جیسے مکڑی کا جالا ہوا میں تیرتا ہو.... کشتی کی ٹوٹی پتوار بے کراں سمندر پر بے مقصد پھرتی ہو.... میں لمحے سے لمحے تک.... دن کو دن سے، سالوں کو نئے سال سے جوڑتا رہا۔ امریکہ صرف ضروریات زندگی کو پورا کرنے کا سفر تھا۔ ضروریات بڑھ رہی تھیں، ان کے لئے جدوجہد اور بھی روز افزوں تھی۔دن، ہفتے، مہینے، گسال معیار زندگی کو بہتر بنانے کی نذر ہوتے رہے۔
پاکستان میں میرا جسم ناآسودہ تھا، امریکہ میں روح تشنہ رہنے لگی۔ ہولے ہولے اس تشنہ روح نے سوال پوچھنا شروع کر دیئے.... کیا میں دنیا میں صرف زیادہ کمفرٹس فراہم کرنے کے لئے لایاگیا ہوں؟ مجھے کیا کرنا ہے؟ کس کے لئے کرنا ہے اور پھر کیوں کرنا ہے؟
پاکستان رسم و رواج، ماں باپ سے مستعار لئے تعصبات، مذہب سے وابستگی میرے سامان کے ساتھ امریکہ پہنچے۔ رسم و رواج میں نے اپنے اختیاری وطن کی خاطر چھوڑ دیئے۔ اقلیت یا تو مانگے کے مور پنکھ لگا کر زندہ رہتی ہے یا پھر لبرل بن کر دوسروں کے دلوں کا اپنے سے زیادہ خیال رکھتے ہوئے قائم رہ سکتی ہے۔ میں نے پورے پندرہ سال سفید لوگوں، ان کے مذہب، رسم و رواج، رہن سہن کی دل سے عزت کی تھی۔پتہ نہیں اچانک میری روح بغاوت پر کیوں آمادہ ہو گئی! میں چاہنے لگا کہ کسی کھونٹے سے بندھ جاﺅں۔ میرے کچھ تعصبات ہوں جن پر میں شرمندہ شرمندہ نہ پھروں۔ میں دوسروں کو جینے کا حق ضرور دوں لیکن میرے اندر بھی تازہ ہوا کے جھونکے آتے جاتے محسوس ہوں۔ میں اس قدر فراخ دل نہ ہوجاﺅں کہ میرے لئے کوئی ملک، مذہب، عقیدہ، قدر، انداز سوچ با معنی ہی نہ رہے۔ کچھ تو میرے پاس بھی ایسا ہو جس کی خاطر میں بھی کٹ مروں، نقصان سہہ جاﺅں، اپنے ہونے کا ثبوت دوں۔
یہ علم بھی پندرہ سال امریکہ رہ کر میں نے سفید آدمی ہی سے سیکھا تھا۔
وہ بیک وقت آزاد اور پابند رہنے کا علم جانتا تھا۔
وہ اپنی دھرتی سے قلبی رشتہ جوڑنے کے بعد دنیا کے تمام ملکوں سے سہتا سہتا پیار کرنے کا اہل تھا۔اپنے رسم ورواج، آداب، مسلک کو سینے سے لگانے کے بعد وہ دوسرے کلچروں کا احترام بھی کر سکتا تھا اور ریسرچ بھی۔
اس کی پہلی وفاداری سفید فام لوگ اور وہ بھی عیسائی فام لوگ تھے۔ اس کے بعد وہ تمام ہیومن بینگز کو انسانی حقوق دینے کا روا دار تھا۔ یہاں تک کہ اسے اپنی برائیاں بھی خصوصی لگتی تھیں۔ اسے تو اپنی شراب تک سے اتنی محبت تھی کہ وہ کسی اور نشے کو خاطر میں نہ لاتا بلکہ روئے زمین پر صرف شراب ہی کو واحد بے ضرر نشہ سمجھتا۔
پندرہ سال میں مجھے ایک ہی بات سمجھ میں آئی کہ سفید لوگ پہلے پابند ہیں اور پھر آزاد.... پہلے Fanatic ہیں اور پھر لبرل.... پہلے سسٹم کے پجاری ہیں اور پھر شخصی فلاح کے آرزو مند.... میں بڑی مشکل سے سمجھ پایا کہ کوئی شخص بھی تنگ نظر ہوئے بغیروسعت قلب نہیں رکھ سکتا۔ حدود میں رہے بغیر بے حدود نہیں ہو سکتا۔ اسے ایک شخص خاندان، ملک، کسی ایک سیاسی نظام کی پابندی سے دوسروں کے ملک، مذہب، آدرش جاننے کی سچی سوجھ بوجھ ملتی ہے۔ صرف اپنی لگن کی روشنی میں ہی اسے دوسروں کے جذبے کے ساتھ ہمدردی پیدا ہوسکتی ہے۔ اپنے عشق کی آگہی دوسروں کی محبت کا احترام سکھا سکتی ہے۔ اپنے مذہب کا احترام دوسرے مذاہب کی حقیقی عزت کا راستہ دکھاتا ہے۔
پندرہ سال امریکہ میں رہ کر مجھے سمجھ آئی کہ اس ملک نے مجھے لبرل تو بنا دیا لیکن وہ پابندی نہیں سکھائی جو خود اسے اپنے وطن، زبان، رسم و رواج سے تھی۔ اسی لئے میں نے فیصلہ کیا کہ عمرے کے بعد میں امریکہ واپس نہیں جاﺅں گا۔ ایک در کی پابندی، تنگ نظری کی حد تک ذات سے وابستگی، ایک مسلک کی زنجیر پہنے بغیر میں زندہ تو رہ سکتا تھا لیکن وہ زندگی صرف روئیدگی تھی.... جیئے جانے کا بے معنی عمل!
طلعت نے عمرے کا فیصلہ آسانی سے کیا لیکن میرے بغیر وہ امریکہ لوٹے گی، اس بات پر بہت جھڑپیں ہوئیں۔ ہم دونوں نے اس فیصلے پر پہنچنے سے پہلے لمبے مباحثے، جھگڑے، مرن برت، دھمکیوں کا بے شمار اسلحہ استعمال کیا۔ طلعت کا خیال تھا کہ میں انتہائی غیر حقیقی سوچ رکھتا ہوں۔اب جبکہ اسے اور زینب کو میری بے حد ضرورت تھی، میں ان کا ساتھ چھوڑ کر بے وفائی کا مرتکب ہو رہا تھا۔ ہر بحث میںبالآخر وہ زینب کو میری آخری ضرورت، مقصد حیات اور آدرش بنا کرپیش کرتی۔ میں ایسی ہر بحث ہار جاتا، کیونکہ میں کبھی اسے اتنی بات نہ سمجھا سکا کہ اب میری ضرورت، مقصد حیات اور آدرش کو اتنے چھوٹے پیمانے سے ناپا نہیں جاسکتا۔
جب میں مدینہ شریف میں اترا تو اپنے بھانویں میں اپنی ساری کشتیاں جلا آیا تھا۔ پاکستان اور امریکہ سے آنول توڑ کر یہی ایک سرزمین میرا مرجع، منبع اور واحد آسرا تھی۔ میں اپنی ذات، وجود، سائیکی، روح سب کچھ ایک چوکھٹ پر ارپن کرنے کے لئے حاضر ہوا تھا۔مجھے خیال تک نہ تھا کہ آنے والے لمحات پر ہمارا پہرہ نہیں ہوتا۔ اپنی کشتیاں جلا دینے کے بعد بھی انسان کسی دوسرے کی چور کشتی میں سوا ہوسکتا ہے.... ہر خواہش کی راہ روکنے کے بعد کوئی اور خواہش بھی پیدا ہوسکتی ہے.... فرار کے لئے صرف سفر ہی شرط نہیں، کبھی کبھی جا چکنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس نے پہلے مقام سے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا.... یا پھر منزل آہی نہیں چکتی اور سفر ہی جاری رہتا ہے۔
عصر کی نماز پڑھنے کے لئے ہم بازار سے گزر رہے تھے کہ اچانک مجھے لگا جیسے میں ابھی مدینہ شریف پہنچ ہی نہیں پایا.... یا تو میں راستے میں ہوں یا اس مقدس شہر کو بھول بھال کر کہیں اور جا پہنچا ہوں۔
عصر کی اذان ختم ہو چکی تھی، صرف اس کی خاموش گونج فضاﺅں میں تھی۔ وقت ٹھہرا ٹھہرا سا تھا۔
ہوا میں نہ گرمی تھی نہ خنکی!
میں جو مسلسل دو سال کی کوشش کے بعد یہاں پہنچا تھا.... اندھے، بہرے، گونگے کی طرح شروع کی کسی سرحد پر معلق تھا۔
وہ عین اس اشتہار کے نیچے کھڑی تھی جس پر لکھا تھا کہ اس دکان کے اندر کا کلہم سامان دو دو ریال کے لئے بکاﺅ ہے۔ امریکہ کی سپرمارکیٹ اور مال کی دکانوں کے بعد یہ ہٹی بڑی کم ڈاﺅن تھی۔ کسی سستے کاریگر کی بنائی ہوئی الماریوں میں عطر، چاقو، چھریاں، پلاسٹک کے برتن، بچوں کے کھلونے، عینکیں، کانوں میں پہننے والے پلاسٹک کے رنگین بندے، بالوں میں سجانے والی بوٹیاں اور کوریا، تائیوان کا بے شمار سستا سامان ٹھنسا ہوا تھا۔ زائرین عموماً تلاش کر کے یہ سامان شوق سے خریدتے اور گھر پہنچ کر جب یہ تحفے رشتہ داروں کو دیتے تو جلد انہیں علم ہوتا کہ ٹیپ ریکارڈ، وی سی آر، کیمرے، گھڑیاں وصول کرنے والے رشتہ داروں کورتی بھر خوشی نہیں ہوئی۔
وہ ایسی ہی ایک معمولی دکان کے آگے کھڑی تھی۔ اس کے قریب عرب دکاندار سفید کے ٹی کے توب میں ملبوس، سر پر سرخ بوٹی والا سفید رومال، تکون میں سجائے اونچے اونچے بول رہا تھا.... ”دو دو ریال....دو دو ریال....ریالیں“ وہ سڑک کی دوسری جانب تھی۔
ہم دونوں کے درمیان لوگوں کا ایک سیلاب چل رہا تھا۔ کچھ لوگ مسجد نبوی کی جانب پر اشتیاق بڑھ رہے تھے.... کچھ بازاروں، ہوٹلوں، فندقوں کی طرف بھاگے جا رہے تھے عمل اور ردِ عمل میں شدت تھی۔
سڑک پر دکانوں کے سامنے بنی ہوئی اونچی پٹڑی پر کھڑے طلعت اور میں ٹین کے ڈبوں میں سے سیون اَپ پی رہے تھے۔ ہم سے چند قدم آگے زینب بے زار کھڑی تھی۔ نیویارک ایئرپورٹ سے یہاں تک اس کی بے زاری روپ تو بدلتی رہی لیکن ٹوٹی نہیں۔
میں نے دیکھا وہ سڑک کی دوسری طرف ہوا میں منہ اٹھائے کھڑی تھی۔ اس کے پیروں کے قریب عبا کے ساتھ ایک چھوٹا سا پلاسٹک کا گلاس الجھا ہوا تھا۔ایسے ڈکسی گلاس مسجد نبوی میں آب زم زم سے بھری کیسری زمزمیوں کے پاس دھرے ہوتے ہیں۔ زائرین ان گلاسوں میں زم زم پینے کے بعد کبھی واپس رکھ دیتے ہیں اور کبھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ پتہ نہیں چھوٹا سا تشنہ گلاس کب سے اس کی عبا کے ساتھ گھستا چلا آرہا تھا!
اس کے چہرے پر جلدی تھی۔ میں نے گلاس سے نظریں ہٹا کر اس کے ساتھ والے مرد کو دیکھا۔ بھرے بھرے جسم اور گھنی مونچھوں والے کے چہرے پر بھی کھوج تھی۔ پتہ نہیں وہ کسی شخص کی تلاش میں تھی.... ہو سکتا ہے وہ کسی ریستوران کو پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے.... کیا وہ کوئی قیمتی چیز کہیں گرا آئے تھے؟
پھر انہوں نے دو دو ریال والی دکان چھوڑی، جلدی سے گھاٹی والا راستہ اختیار کیا اور مجھ سے دور ہوتے گئے۔دیر تک اور دور تک میں اس چھوٹی سی گلاسی کو دیکھتا رہا جو شکیلہ کے حجاب کے ساتھ پیروں کے قریب گھسٹتی جارہی تھی۔
”کیا سوچ رہے ہیں آپ؟“
”میں؟ کچھ نہیں....“
”شکیلہ تھی....!“ طلعت نے ناخوشگواری سے کہا۔
”شکیلہ؟ کہاں....؟“ مدینہ شریف میں میرا یہ پہلا جھوٹ تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہاں چھوٹا سا جھوٹ بھی خمیر بن سکتا ہے۔
”وہی تھی....“
”ہوگی....“
ابھی تک وہ گھاٹی والے راستے پر چلتی نظر آرہی تھی۔
”دیکھا نہیں آپ نے.... کتنی خوبصورت ہے ابھی تک....“
”میں نے؟.... نہیں تو....“
یہ دوسرا جھوٹ تھا جس کے بعد مجھے معلوم ہی نہ رہا کہ سچ کا کچھ باقی بھی نہیں۔
”کیا سوچ رہے ہیں آپ....؟“
بیویاں چہرے کو کتاب کی طرح پڑھتی ہیں۔
”میں؟.... ہاں میں، میں سوچ رہا تھا کہ عجواءکھجوریں خریدوں۔ تم امریکہ جاکر فرینڈز میں تقسیم کرنا....“
”تو خرید لیں نا.... بار بار کیوں سوچتے ہیں!“
”بڑی مہنگی ہیں.... سوریال.... قریباً سات سو روپے۔“
”کہاں مہنگی ہیں.... قریباً چھبیس ڈالر۔“
میری بیوی ہمیشہ ڈالروں میں سوچتی ہے اور سکھی رہتی ہے۔ پندرہ سال امریکہ میں رہنے کے باوجود میں ابھی تک ہر ڈالر کو روپے میں بدل کر اس کی افادیت جانچتا ہوں اور اسی لئے کوفت کا شکار رہتا ہوں....
طلعت کم سوچتی ہے، اسی لئے زیادہ زندہ رہتی ہے۔
میں پلاسٹک گلاس کی طرح کسی عبا سے لپٹا سوچ کی پٹخنیاں کھاتا رہتا ہوں۔ میرے لئے جینا آسان نہیں۔
وہ حجاب سمیت اپنے گھنی مونچھوں والے میں گم گھاٹی والی سڑک پر غائب ہوگئی۔
میں نے زینب کو آواز دی، ہم تینوں سڑک کے ساتھ ساتھ بازار میں چلتے گئے۔ سڑک پر لمبی لمبی بسیں، کاریں، سفید ریشمی توب پہنے لچکیلی شاخوں جیسے عرب، لمبے چوغے لٹکائے گھونگھریالے بالوں والے سفید فام شامی اور مصری، ملائشیا کی چپٹی اور دھلی دھلائی عورتیں، ساڑھی کے اندر میں بھڑ کےلے پرنٹوں والی چادریں لپٹے نائجیریا کی درازقد عورتیں، شلوار قمیض کو ہلکی پھلکی چادروں میں چھپائے پاکستان عورتیں۔
رنگ رنگ کے چہرے
رنگ رنگ کے لباس
رنگ رنگ کا نور
رنگ رنگ کی خباثت، جھوٹ، ریا
کچھ روحیں مسجد کی جانب دھلنے دھلانے جا رہی تھیں۔
کچھ اجلے ہوجانے کے بعد پھر مٹی کھیلنے کو بے قرار مسجد سے بازار کی سمت لوٹ رہے تھے۔طلعت کے ساتھ چلتےچلتے میں نے بے قراری سے سوچا، ہم بھی کیسی امت ہیں! ہمیں مسجد میں جانے کی بھی بڑی جلدی رہتی ہے اور نماز ختم ہوتے ہی ہم باہر کا راستہ بھی اسی بے قراری سے ڈھونڈتے ہیں۔نماز سے پہلے اندر جانے کاراستہ نہیں ملتا،نماز ختم ہوتے ہی باہر نکلنے کے لئے بھی لوگوں کے سمندر میں پن ڈبوں جیسی کیفیت ہوجاتی ہے۔ کیا ہم سکون کے بھی اتنے ہی متلاشی ہیں جتنے بے سکونی کے؟ کیا مذہب اور لا مذہبیت میں برابر کی کشش ہے؟
کیا اللہ اور غیر اللہ کے درمیان انسان کھنچے دھاگے سا تنا ہے؟
میری بیٹی سانولی ہے، اس کے ٹخنے دیکھ کر مجھے شکیلہ کے پاﺅں یاد آنے لگے.... ساتھ ہی مجھے شکاگو، شہر کی یاد ستائی.... اس کی سڑکیں.... رات کے وقت ہوا میں کھڑے طلسماتی بلاکس اور ان میں جلنے والی ان گنت بتیاں.... سحر.... طلم ہوشربا کا منظر!
شکاگو میں میرے سٹور پوری آب و تاب سے چل رہے تھے۔ دیوان روڈ پر ہماری بوتیک کا مال ہاتھوں ہاتھ بک جاتا۔ طلعت بوتیک چلاتی تھی، میں سرد سٹورز میں گرینڈ بزنس کر رہا تھا۔ ہمارے اچار، چاول، آٹا لینے کے لئے قریبی ریاستوں سے لوگ آتے تھے۔ ایک کینڈین تو اپنی رسد لینے ہر تیسرے مہینے باقاعدگی سے آیا کرتا۔ دو سال پہلے طلعت اور میں نے پکا فیصلہ کیا تھا کہ اب ہم رشتہ داروں سے زخم خوردہ ہونے کے لئے کبھی پاکستان نہ جائیں گے۔ اگر ہم سیکنڈ گریڈ امیگرنٹ ہیں تو بھی ہمیں اپنی کمفرٹیبل زندگی کی خاطر اسی دیس میں عمر بسر کرنا ہے۔ میں ڈاﺅن پیمنٹ پر ایک کوٹھی پومی رائے روڈ پر خرید چکا تھا۔زینب قرآن کا بیسواں سیپارہ پڑھ رہی تھی۔ وہ نماز کی پابند ہونا چاہتی تھی لیکن بیس بال، سوئمنگ، ارد گرد کی مصروف زندگی اسے ارادہ پورا نہ کرنے دیتی۔ امریکہ میں اقلیتوں کی شناخت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے آبائی کلچر، زبان، مذہب سے وابستہ رہیں ورنہ اکثریت کا ریلا بہالے جاتا۔ اسی لئے پاکستانی مسلمان کی بہ نسبت امریکی پاکستانی زیادہ مذہبی، اُردو پرست اور وطن دوست تھے۔
اس روز جب زینب سکول سے لوٹی تو روئی روئی تھی۔ لمبی ڈرائیو پر عموماً وہ مسلسل باتیں کئے جاتی.... لیکن اس روز بارہ برس کی کھلنڈری زینب کو ایک بار بھی ہنسی کا دورہ نہ پڑا۔ وہ چپ چاپ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ طلعت نے کئی بار خاموشی کی وجہ پوچھی، میں نے بلایا لیکن وہ ٹال گئی۔
دوسرے دن زینب نے سکول جانے سے انکار کر دیا۔
میرے لئے یہ بڑا مسئلہ تھا۔ میں بہلا پھسلا کر اسے چڑیا گھر لے گیا۔بڑی دیر تک پول کے کنارے ہم بظاہر ڈولفن کا تماشا دیکھتے رہے۔ اس سے پہلے زینب سارا سارا دن ڈولفن کو تیرتے، گیند اچھالتے، ناچتے، انڈر واٹر جاتے، کلکاریاں مارتے دیکھ کر خوش ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس روز وہ چپ چاپ بیٹھی رہی۔ نہ تو اس نے انسٹرکٹر لڑکی کی حرکتوں پر تالیاں بجائیں نہ ڈولفن کو دیکھ کر مسرور ہوئی، بلکہ اس کی ایماءپر ہم دونوں باہر نکل گئے۔ جدھر شمپزی بندروں کا سیکشن ہے، ادھر اندر جانے کے بجائے وہ باہری بنچ پر بیٹھ گئی۔ لگتا تھا وہ تھک گئی ہے۔
”ابومیں کتنی کالی ہوں؟“
”تم.... ارے تم کہا ںکالی ہو زینب!“
”لیکن ڈونلڈ کہتا ہے کہ میں ساﺅتھ کی کاٹن پکرز جیسی ہوں۔“
میرے پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی۔
زینب کا رنگ گندم گوں تھا۔ پاکستان سٹینڈرڈ کے مطابق تو کبھی کبھی وہ گوری لگتی، پھر بھی ڈونلڈ کمبخت اسے کاٹن پکرز کیوں سمجھتا تھا!
”دیکھو زینب مری جان!ایسی باتوں کا مائنڈ نہیں کرتے۔ یہ امریکن لوگوں کا ملک ہے.... ہے ناں؟ ان کا ملک، لباس، زبان، جلد سب کچھ ہم سے ڈفرنٹ ہے.... ہے ناں؟ بس یوں سمجھو جیسے گھر کا مالک ہوتا ہے وہی فیصلہ کرتا ہے، وہی Dictate کرتا ہے۔ ہم لوگ امیگرنٹ ہیں، مہمان ہیں۔ مہمان اپنے آپ کو سمجھانے بیٹھ جائے تو برا لگتا ہے۔ یاد ہے ناں پچھلے سال انکل سکندر آئے تھے.... وہ ہر معاملے میں اپنی منواتے تھے، تم کیسی عاجز آگئی تھیں۔ آئیں تھیں ناں یہ امریکن بھی ہم لوگوں سے عاجز آگئے ہیں۔ ان کے پوائنٹ آف ویو سے دیکھو تو ایسے ہی ہے جیسے ملازم برابری کرنے لگے۔اسی لئے یہ لوگ اقلیتوں کو Dirty Names سے یاد کرتے ہیں۔ ڈونلڈ تمہیں صرف یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ تم چاہے لاکھ گرین کارڈ ہولڈر ہو، اس کی برابری نہیں کر سکتیں۔ لو بھلا کسی کے باسٹرڈ کہنے سے کوئی باسٹرڈ ہو چلا ہے.... ہے نا پاگل!“
زینب تو ہنسی خوشی سکول جانے لگی۔ چند دن بعد ڈونلڈ اس کے لئے کوکیز اور ہوم میڈسٹرابیری جیم لے آیا۔ لیکن میں نے ارادہ کرلیا کہ میں اپنے جیسوں میں زینب کو پالوں گا حالانکہ مجھے علم تھا کہ اپنے بھی کچھ اچھا سلوک نہیں کرتے!
اس روز طلعت اور میرے درمیان بڑی تلخ کلامی ہوئی۔ اسے شکاگو شہر، وہاں کے شب و روز بہت پسند تھے۔ وہ کسی قیمت پر بھی دیوان سٹریٹ والا زینب بوتیک چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔
”چلو پاکستان نہ سہی طلعت، ہم مدینہ شریف جاسکتے ہیں۔مصباح بن جباز مجھے کئی بار آفر کر چکا ہے.... وہ ہمیں اقامہ دلوا سکتا ہے، ہمارا کفیل بن سکتا ہے“.... ”وہاں جا کر ہم کیا کریں گے؟“
میں نے طلعت کو وہ سارا واقعہ سنایا جو زینب کو پیش آیا تھا۔
”معمولی بات ہے....She will get over it “
یکدم پتہ نہیں کیسے میرے اندر زندگی کا مقصد واضح ہونے لگا۔
”سنو طلعت! آج تک جو میں جیتا رہا ہوں تو جھک مارتا رہا ہوں.... میں اب چاہتا ہوں کہ ہم روزی کی خاطر.... بہتر معیار زندگی کے لئے Underdog نہ بنے رہیں، نہ اپنے وطن میں، نہ کسی اور دیس میں.... مجھے مدینہ شریف جانا ہے.... اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنا ہے.... میں چاکروں سے تنگ آگیا ہوں، کسی سیدھے راستے پر چلنا چاہتا ہوں....“
طلعت حیران رہ گئی۔ کچھ دیر چپ رہنے کے بعد بولی.... ”سرور! کیا تم عمرہ کرنا چاہتے ہو....“
”میں وہیں رہنا چاہتا ہوں.... ہمیشہ کے لئے.... اس بار میری ہجرت کا رخ ادھر کی طرف ہے۔ وہ مجھے بچا لیں گے، اپنے سرور کو.... مجھے ان کے چرنوں میں بیٹھ کر ایک بار، صرف ایک بار اپنی جیسی کیسی روح پیش کرنی ہے طلعت....“
اس کے بعد کوئی جھگڑا نہ ہوا۔ عورت سیانی ہوتی ہے.... طلعت چپ ہو گئی اور عمرے کی تیاری کرنے لگی۔طلعت اور زینب دونوں ہر وقت کسی نئے کلچر، زبان سے اپنی مونوٹنی کو تازہ کرنے کی خواہش مند رہتی تھیں، اس لئے وہ بڑی خوشی سے اس پرراضی ہو گئیں۔ انہیں معلوم ہی نہ تھا کہ میں اپنے ارادے میں کتنا سیریس ہوں۔
ہم تینوں آہستہ آہستہ ہوٹل کی طرف چلتے رہے۔ میرے دماغ میں گھاٹی کی جانب جانے والی سڑک تھی۔ میں گفتگو میں شریک نہیں تھا، طلعت اور زینب کو کبھی امریکہ نہیں بھولا۔ وہ ہر لمحے، ہر جگہ، ہر چیز کو امریکہ کے پیمانے پر ناپتی رہتیں۔ صفائی، آرائش، ذوق، رہن سہن انہیں ہمہ وقت کوئی مسئلہ رہتا۔ تقابلی گفتگو کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو بہت بلند و بالا سمجھنے لگتیں۔ میں چپ چاپ ان کے ساتھ چلتا رہا۔ کئی دکانوں پر رکا لیکن عجوا کھجوریں نہ خرید سکا۔ میری عادت رہی ہے کہ میں محتاط اندازوں کے بھنور میں پھنس جاتا ہوں۔ دکان کے اندر گھستے ہی افادیت اور قیمت کا موازنہ کرتا گم سم ہوجاتا ہوں.... یہ موازنے، تخمینے، سوچ میری خواہش پر برف کا پانی ڈالتے ہیں اور بالآخر میں چیزخریدے بغیرہی رخصت ہوجاتا ہوں.... ایسے ہی موازنے، تخمینے، افادیت نے مجھ سے شکیلہ چھین لی تھی۔ میں اس وقت بھی اتنا ہی محتاط رہا تھا، بالآخر شکیلہ اپنا سا منہ لے کر کہیں نکل گئی۔ اما ںکہا کرتی تھیں کچھ لوگوں پر پھٹکار ہوتی ہے، بددعا ان کے راستے کھوٹے کرتی ہے، ان کے سیدھے کام بھی الٹے پڑتے ہیں۔ ہو سکتا ہے میرے اندر کی فضا باہر جنت بننے نہیں دیتی۔ لیکن کچھ ہے ضرور!
شکیلہ میری منگیتر تھی.... میری پھوپھی زاد بہن تھی۔
پھر پتہ نہیں کیوں.... ہمارے راستے الگ ہوگئے!
ہم تینوں اپنے چھوٹے سے ہوٹل کی طرف چلتے رہے۔
”آپ کچھ چپ چپ ہیں۔“ طلعت نے پوچھا۔
”امریکہ یاد آرہا ہے ناں ابو....“ زینب نے شوخی سے پوچھا۔
میں ان دونوں کو بتا نہ سکا کہ کالے حجاب کے ساتھ سفید کبوتر جیسے پیروں کے قریب ایک چھوٹے سے گھسٹتے لڑھکتے گلاس نے میرے اندر ہلچل مچادی تھی.... میں اس گلاس کے انجام سے خوفزدہ تھا۔ میں نے تو امریکہ چھوڑتے وقت ایک ہی آرزو کی تھی کہ اب سفر ختم ہوجائیں، میں غریب الوطنی کے احساس سے چھوٹ جاﺅں گا۔
میں نے آنکھیں موند کر التجا کی،یارحمت کے پیامبر ایسے کیوں ہواکہ آپ کے شہر میں.... آپ کی دکانوں، بازاروں کے آگے خوف نے مجھے پھر لوٹ لیا؟
میں پھر اجنبی.... ناآگاہ.... مکڑی کے جالے ایسا معلق....
”آپ تھک گئے ہیں ابو....؟“ زینب نے پوچھا۔
لیکن جواب کا انتظار کئے بغیر وہ دونوں کسی زیور کو ڈسکس کرنے میں مشغول ہوگئیں۔
ہم تینوں ہوٹل کی لفٹ میں داخل ہو گئے اور کمرے میں پہنچ کر بھی خاموش رہے۔
”آپ بہت خاموش ہیں سرور“ طلعت نے پوچھا۔
”امی! آپ کو پتہ ہے ابو Religious آدمی ہیں، وہ ہولی پروفٹ کے شہر میں زیادہ بول نہیں سکتے.... ہے ناں ابو؟“
میں نے سر ہلایا.... اثبات میں!
”پتہ ہے ایک غلطی ہو گئی ہے سرور.... ہمیںپہلے مکہ مکرمہ جانا چاہئے تھا، وہاں عمرہ ہوجاتا پھر ہم مدینہ مبارک آتے....“
طلعت کاجملہ سانٹے کی طرح میری ننگی روح پر پڑا.... شاید وہاں رکتے تو شکیلہ نظر نہ آتی.... شاید میں عمرے میں اپنے لئے دُعا کر سکتا۔شاید وہ دعا قبول ہوجاتی.... اللہ مجھے نبی کی چوکھٹ پر پھولوں کی طرح گرنے، سوکھنے کے لئے چن لیتا! میں نے کپڑے تبدیل نہ کئے اور لیٹ گیا۔
”ابو! آپ تو لیٹ گئے ہیں، مسجد نہیں جانا؟“
”آرام کر لینے دو زینب۔“ طلعت نے تیکھی آواز میںکہا۔
”ابوپلیز! ذرا جلدی چلیں، کل ہم لیٹ ہو گئے تھے.... اتنے دھکے پڑے اور جگہ ملی بالکل زمزمیوں کے پاس.... میں نے جب سجدہ دیا ناں ابو تو پلاسٹک کے گلاس پر دیا....“ زینب نے ہنس کر کہا۔
پلاسٹک کے گلاس پر سجدہ!
اس جملے نے نیند مجھ سے کوسوں دور کر دی۔ زینب میری طرف پیٹھ کر کے بار براکارٹ لینڈ کا رومانوی ناول پڑھنے لگی۔ طلعت پلنگ پر پڑتے ہی سو گئی۔ نیند کے معاملے میں وہ بڑی ہی خوش نصیب ہے، اس کا بھاری جسم آرام پاتے ہی سکون میں چلا جاتا ہے.... زینب کا مستقبل دیکھے بغیر میں جانتا ہوں وہ ماں جیسی نیند کبھی نہ سو سکے گی.... زینب نہ امریکن ہے نہ پاکستانی، امریکہ میں رہ کر قرآن پڑھتی ہے، پاکستان پہنچ کر امریکن کہلاتی ہے اور مدینہ منورہ میں باربراکارٹ لینڈ پڑھتی ہے.... وہ ساری عمر وہاں نہیں ہوگی جہاں اس کا جسم رہے گا۔
”میں ذرا باہر جا رہا ہوں زینب....“ میں سرگوشی میں کہتا ہوں۔
”مسجد جائیں گے، میں بھی چلوں.... مجھے وہاں کا آرکیٹکچر بہت اچھا لگا۔“
”شام کو مغرب کے وقت!“
میں نے مسجد کے باہر سلیپروں کے ساتھ ہی اپنے آپ کو بھی اتار دیا.... کالی بھیڑ کی طرح خجل پریشان اندر داخل ہوا اور ایک ستون کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ مسجد میں لوگ کم تھے۔ کچھ عرب دوپہر کا قیلولہ کر رہے تھے، کچھ عبادتوں میں مصروف تھے۔ مجھے لگا مجھ جیسوں کے لئے یہ جگہ نہیں ہے جو بے دھیانی، بے خیالی میں کئی اور راستوں پر بھٹکتے پھرتے ہیں۔میں تادیر ستون کے ساتھ بیٹھا نہ رہ سکا۔
مدینہ شریف کی گلابی ہوا ابھی نہ آئی تھی۔ اس موسم میں نہ جانے کیوں وہ عصر ہی کے وقت روضہ مبارک کے پاﺅں پڑنے آتی ہے۔ شاید اس وقت وہ دور ریگستانوں سے لبیک لبیک کہتی اٹھ رہی ہو۔ اس کے ساتھ ریت کے تودے بھی بڑے ارادے سے اٹھتے ہوں لیکن کسی تودے کا کیا کام جو یہاں تک پہنچ جائے۔ وہ اپنی کم ہمتی، بوجھل وزن اور بجھی آرزو کے باعث یہاں وہاں گرجاتے ہیں۔میں بھی تو امریکہ سے چلا تھا۔ پھر یہاں پہنچتے ہی میری روح نے میرا ساتھ کیوں چھوڑ دیا؟.... ایسے کیوں ہوا.... کہ ایک چھوٹے سے پلاسٹک کے گلاس نے مجھ میں ایک اور سرور کو جگا دیا.... اس سرور میں ایک اور تلاش، بے قراری اور اصرار کی بانسری بجا دی؟
میں مسجد کے اندر نہ رہ سکا۔ ٹھنڈے سنگ مر مر کی جلد میرے پیروں کو سکون دیتی رہی.... اس طیب ہوا میںشکیلہ کی تسبیح پھیری نہیں جاسکتی تھی، میں نے اپنے آنسو ضبط کر لئے۔
میرے اندر گہرا احساس جرم تھا۔
نہ پہنچ پانے کاغم!
حضور سے دوری کا احساس!
باہر نکل کر میرے پاﺅں اس گیٹ کی جانب بڑھتے گئے جہاں سے مستورات نکلتی ہیں۔جوتیوں والے Reck خالی پڑے تھے۔ ایک شرطہ کرسی پر بیٹھا خلال سے دانت صاف کر رہا تھا۔ اس کے قریب دو پاکستانی عورتیں نارنجی یونیفارم میں کھڑی فرفرعربی بول رہی تھیں۔ صفائی کرنے والی عورتوں کو کم از کم یہ فکر تو نصیب تھا کہ انہوں نے مسجد نبوی کے فرش، قالین صاف کئے.... صحنوں میں بھٹکے پلاسٹک کے خالی گلاس، شاپر اکٹھے کئے، زمزموں کے قریب گہرے پانی کو کئی بات اپنے دوپٹوں پر اٹھایا۔ وہ دونوں عربی میں مسلسل شرطے سے جھگڑتی رہیں اور وہ بے نیاز دانتوں میں خلال پھیرتا رہا۔
شاید میں قیامت تک وہاں کھڑا رہ کر شکیلہ کا انتظار کرتا رہتا۔ پتہ نہیں کیوں اور کب دل کہنے لگا وہ اندر نہیں ہے۔
کیا اس نے مجھے دیکھ لیا تھا؟
کیاوہ بھی اپنی نظروں سے مجھے نمازیوں کی بھیڑ میں تلاش کر رہی تھی؟
میرے قدم اٹھنے لگے.... ایک بے نام سی بے کلی کے ساتھ میں فندق مدینہ، فند العطاس، چھوٹے بڑے ہوٹلوں کے ارد گرد.... ان کے لاﺅنج، لفٹ، کوری ڈور دیکھتا رہا.... بے کلی سے بھی گمنام مدھم امید نے میرے پیروں میں پارہ بھر دیا تھا.... اتنے برسوں بعد.... ایک ہی شہر میں.... ایک ہی فضا میں.... مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے دیکھ چکی ہے۔
میں ان فیصلوں کی طرف گیا جہاں اونچی اونچی کرینیں ملبہ اٹھا رہی تھیں۔ ہر کرین ڈرائیور جب روضہ مبارک کی طرف جاتا، اپنی کرین کا کیرئیر روضہ مبارک سے نیچے کر لیتا....
عقیدتوں کے اس گڑھ میں میرا دل نہ جانے کیوں ریت پھانکنے کا مشورہ دیئے جا رہا تھا۔ میرے پاﺅں چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں، ریستورانوں، دکانوں کی طرف پلٹ رہے تھے۔
شاید یہیں کہیں۔
وہاں....
اس سے آگے
ٹیلی فون بوتھس کے پاس....
سیون اپ پیتے ہوئے اونٹ کے گوشت کو سمولی میں پیک کرواتے ہوئے۔
زیورات کی دکانوں کے اندر
کپڑوںکی دکانوں کے باہر
کسی سے پوچھوں، کون بتائے؟
میرے اندر ندامت، بے چارگی کا احساس تھا.... اتنے قریب آکر دوری کا ایسا غلبہ! جب میں ہوٹل پہنچا تو عشاءکی اذان ہو چکی تھی۔ وہ دونوں مسجد جانے کے لئے عبا پہنے، پرس لٹکائے تیار بیٹھی تھیں۔
”توبہ! کہاں چلے گئے تھے آپ....“
میں نے طلعت کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔
امریکن لہجے میں زینب نے پوچھا.... ”ابو! ایک بات پوچھو؟“
”پوچھو.... بلکہ ضرور پوچھو....“
”ابو.... کیا ہم عرب شریف وزٹ کرنے کے بعد اکٹھے امریکہ نہیں جا سکتے؟.... آپ، میں اور ماما....“
یہ سوال وہ نیویارک سے ہی پوچھتی آتی تھی۔ شکاگو کے ائیرپورٹ پر بھی اس نے پوچھا تھا.... ”وہ آپ مدینہ شریف کیوں رہنا چاہتے ہیں ہمیشہ....“ کیا ہولی پروفٹ پسند کریں گے کہ آپ ہمیں چھوڑ دیں؟“
”پیاری بیٹی زینب! گڈ بیڈ ان ڈفرنٹ فیصلہ از فیصلہ، جب ایک بار لیں ناں تو پھر بار بار ریویونہیں کرتے۔“
”اچھا اگر آپ کو وضو کرنا ہے تو کر لیں، پھر اچھی جگہ نہیں ملتی....“
طلعت اپنے بھاری جسم کی وجہ سے ہمیشہ اچھی جگہ کی طالب رہتی ہے۔
میں نے وضو کر کے آئینے میں دیکھا۔ میرے دانتوں پر کثرت سے سگریٹ پینے کے باعث کیسری نشان تھے۔ آنکھوں تلے کالے سیاہ حلقے امریکہ کی محنت نے دیئے تھے۔
بالوں میں سفیدی ہی سفیدی تھی۔ یہ سفیدی میری ماں کا عطیہ تھی۔اس کے بال چھبیس برس کی عمر میں اتنے ہی سفید تھے جتنے میرے بال اب ہیں۔ جب بھی میں پاﺅں دھوتا ہوں، میری حالت غیر ہوجاتی ہے.... میں اس شہر کا پانی اپنے تن پر، اپنے پیروں پر ڈالنا نہیں چاہتا....
سوچ آئینے سے گزر کر کہیں اور نکل جاتی ہے۔
اگر وہ مجھے دیکھ پائیں تو کیا سوچے گی.... یہ سفیدی، کیسری نشان، حلقے؟ جب اس نے مجھے چھوڑا تب تو میںایسا نہ تھا!
میں نے سر جھٹکا۔ خدا جانے میں ایسا توہم پرست، شگونوں کا مارا ہوا، کبھی اندر دھمال ڈالنے والا کبھی سر پر راکھ ڈال کر بین کرنے والا کیوں ہوں؟
وضو کا پانی میرے چہرے اور بازوﺅں پر تھا۔
جب میں آخری بار شکیلہ سے ملا تھا.... ہماری منگنی رینگتی رینگتی چوتھے سال میں داخل ہوئی تھی۔ اب ہم دونوں ایسی سٹیج میں تھے جب ہمیں ٹھیک طرح سے معلوم نہ تھا کہ ہمیںشادی کرنی بھی چاہئے کہ نہیں.... وہ حسن کی گٹھڑی ٹیلی فون گود میں رکھے ملانے کے عمل میں تھی۔ میں تولئے سے بازو پونچھتا اس کے پاس پہنچا۔
”آئیے آئیے سر!“
”آگیا....“ میں نے جواب دیا۔
”کیا ہونے لگا ہے؟“
”ارادہ ہے نماز پڑھوں....“
شکیلہ کے بالوں میں رولرز، بائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر بینڈایڈ، گلے میں رومال اور بائیں ہی ٹخنے پر پٹی بندھی تھی۔
ٹوٹی گڑیا نے پوچھا.... ”کیا میں آپ سے پوچھ سکتی ہوں کہ آپ اتنی نمازیں کیوں پڑھتے ہیں....کیا آپ کو کوئی گلٹ ہے یا آپ کسی Religious Mania کا شکار ہیں؟“
”جس طرح آپ میک اپ کے بعد، خوبصورت لباس زیب تن کر کے خوش اعتمادی محسوس کرتی ہیں ویسے ہی میں نماز پڑھنے کے بعد اپنے میں فرحت محسوس کرتا ہوں۔ حالات سے مقابلہ کرنا میرے لئے مشکل نہیں رہتا.... کوئی اعتراض....“
”اعتراض تو کوئی نہیں.... لیکن اس عمر میں ہر وقت نمازیں گزارنا.... عجیب سا لگتا ہے۔ یہ عمر نمازوں کی Activity کے لئے کچھ موزوں تو نہیں....“
میں کچھ بد دل ہو گیا.... میرا خیال تھا کہ وہ میری نیکی سے متاثر ہوگی۔
شاید اگر گھر میں سارے نمازی ہوں تو کچھ اتنا عجیب بھی نہ لگے۔ ہے نا!
”جو کام سبھی کرتے ہوں، اتنا اہم نہیں رہتا.... ہے نا؟ پھر کوئی آپ کو تختہ مشق نہیں بناتا.... ہے نا؟“
”لیکن کیا وہ کام کر لیناچاہئے جو آپ کو Scape Goating سے بچائے؟“
وہ گہری سوچ میں پڑ گئی، میری بات کا جواب نہ دیا۔ ”سنئے.... سرور“
”کچھ لوگ اپنی نمازوں سے اپنے مسئلہ کا نتیجہ اپنی مرضی کے مطابق نکالنا چاہتے ہیں.... کیا آپ کا بھی یہی مسئلہ ہے؟“
میں چپ رہا۔
ہم دونوں کی گفتگو ایک عرصے سے سیدھے سبھاﺅں نہیں چلتی تھی، اس میں بڑی سنجیدگی آگئی تھی۔ تیس سال کے بیاہے جوڑے کی طرح مسائل، ان کا حل، اگر مگر اتنا کچھ مستقبل سے وابستہ ہو گیا تھا۔ ماضی کے بخئے ادھیڑنے کا سلسلہ شروع تھا۔ ان دنوں میں محبت کی اولین سرشاری بھول چکا تھا۔ میرا جی چاہتا میری باتوں پر شکیلہ ہنسنے لگے.... اس کی آنکھوں سے ہنستے ہنستے آنسو بہنے لگیں، لیکن میں اسے ہنسانہ سکتا تھا ، گہری سوچ میں رہنے لگا تھا۔ ہمیں سنجوگ میں رہنا چاہئے کہ بیراگ میں.... جو اب فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے ہر موڑ، کمرے، گیلری میں وقت بے وقت ملتے رہنے نے ہمارے رشتے کو حیرت سے نکال کر روزمرہ کی روٹین میں داخل کر دیا تھا۔
”چپ چپ کھڑے ہو.... ضرور کوئی بات ہے؟“ شکیلہ نے مزاح پیدا کرنے کی عامیانہ کوشش کی۔
”میں نے فیصلہ کر لیا ہے شکیلہ....“
”گڈ.... ویری گڈ نیوز!“
”شاید یہ نمازیں بھی وقتی ہوں.... میں استقامت سے ساری عمر نمازیں بھی نہ پڑھ سکوں.... میں تادیر کوئی کام نہیں کر سکتا.... حتیٰ کہ محبت بھی....“
تو پھر؟.... وہ سنجیدہ ہو گئی۔
”شادی سے پہلے میں تمہیں تھوڑا غم ضرور دے سکتا ہوں لیکن شادی کے بعد مسلسل قتل نہیں کر سکتا؟“
”میں غالب کی طرح ہوں.... جس سے محبت کرتا ہوں، اسے قتل کر دیتا ہوں....“
”کیسے، کیسے سرور.... بتاﺅ نا....!“ شکیلہ گڑبڑا گئی۔
”پہلے ہر سانس میں محبت کروں گا.... جب تم اس محبت میں سیر ہو جاﺅ گی تو پھر میں تمہیں بھول جاﺅں گا۔ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ایک ہی پلنگ پر سوتے ہوئے میں کہیں دور نکل جاﺅں گا۔ تم میرے انتظار میں زہر پی پی کر مر جاﺅ گی۔ شکیلہ.... یہ Phenomena ہے لیکن ہوگا۔ میرے دل میں تمہاری محبت کبھی آندھی بن کر اٹھتی ہے اور کبھی میری آنکھ میں تمہاری پہچان بھی نہیں ہوتی.... میں چاہتا ہوں میری محبت کو عام زندگی نچوڑ نہ لے، ختم نہ کر دے.... اگر میں نے تم سے شادی کی تو ایسے ضرور ہوگا....میں تمہیں قتل کر دوں گا، قتل....“
تم مجھے پہلے بتا دیتے سرور....!
میں ٹہلنے لگا.... تھوڑا سا فلمی انداز، تھوڑی سی دیوانگی کے ساتھ!
”سنو شکیلہ! مجھ میں کوئی جذبہ ہمیشہ نہیں رہا.... میرا کچھ بھی ابدی، لا متناہی نہیں ہے.... دائم کسی بات پر جمے رہنا، کوئی کام کئے چلے جانا.... نبھائے جانا.... یہ میرا بنیادی وصف نہیں ہے.... میں کئی سالوں سے معجزہ کے لئے دُعا کر رہا ہوں.... سنو شکیلہ! میں تمہیں کسی خاص وجہ یا قصور کے باعث نہیں چھوڑ رہا.... معجزہ مانگتا ہوں لیکن نہیں سوتا.... برسوں سے نمازیں پڑھ رہا ہوں لیکن استقامت نہیں ملتی....“ میں بولتا رہا لیکن وہ کمرہ چھوڑ کر چلی گئی۔
اس کے بعد مجھے شکیلہ نہ ملی۔ شام کو مجھے پتہ چلا کہ وہ اپنے چچا کے گھر کراچی چلی گئی ہے.... وہ گڑبڑ جو کئی سال سے ہم دونوں میں تھی، اس کی وجہ سے میں نے پڑھائی ادھوری چھوڑی اور امریکہ چلا گیا۔ امریکہ میں ان گنت پاپڑ بیلے، پٹرول پمپ پر نوکری کی، منزلوں اونچے بلاکوں کے شیشے صاف کئے، فاسٹ فوڈ کے ریستورانوں میں بیراگیریاں کیں، میکڈونلڈ میں برگر بنائے، ٹیکسی چلائی، گرتے پڑتے شکاگو میں میرے دو سٹور ہوگئے.... طلعت اور زینب آگئیں اور مجھے پتہ چلا کہ وہیں کراچی میں شکیلہ نے خاندان سے باہر کسی ڈاکٹر سے سول میرج کر لی۔
اتنے برسوں بعد میں شکیلہ کو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ ساری نمازیں جو میں پڑھا کرتا تھا، محبت میں استقامت کا معجزہ جو میں ہر نماز میں مانگتا تھا، پتہ نہیں کیوں بے وقت رونما ہو گیا ہے.... دعاﺅں کا بھی کچھ ٹھیک نہیں تھا، ان کے نتائج وقت کے پابند نہیں....
غسل خانے پر زینب نے دستک دے کر امریکن انگریزی میں کہا ”ابو اذان ہو رہی ہے، جلدی چلیں۔“ میں باہر نکلا تو میری نظر طلعت پر پڑی۔ مجھے لگا وہ بھی اندر ہی اندر کسی دعا کو سینے سے لگائے لڑھک رہی تھی۔
”پلیز جلدی کریں، پہلے ہی مسجد میں جگہ نہیں ملتی۔“
ہم جلدی سے لفٹ میں سوار ہو کر نیچے گئے.... لوگوں کا سمندر مسجد نبوی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ زائرین بڑے تقدس اور انہماک سے پراشتیاق چہرے لئے اپنے وجود سے اپنی اپنی مشکلات سے اوپر اٹھنے کی آرزو لئے ادھر دیکھ رہے تھے.... جہاں آسمان سے رحمت کی بارش مسلسل بڑھے جارہی تھی۔
”آپ چپ چپ کیوں ہیں سرور....“ طلعت نے ساتھ ساتھ چلنے کی کوشش میں کہا۔
”آپ کو امریکہ یاد آرہا ہے نا.... آپ اپنے Decision پر Repent کر رہے ہیں نا....“ زینب نے میرے ساتھ قدم ملاتے ہوئے کہا۔
میں نے ماں بیٹی کے سوال کا جواب نہ دیا اور لوگوں کے سمندر میں چلنے لگا۔ لوگ اپنی اپنی فکریں، مسائل بوجھ، تنگ دلی اٹھائے مسجد کی جانب قدم مار رہے تھے۔ ان سب کا ارادہ تھاکہ وہ مسائل کی گٹھڑیاں، اٹیچی، ہینڈ بیگ، بستر بند جوتیوں کے ساتھ ہی شرطوں کے پاس، لکڑیوں کی گٹھڑیاں، اٹیچی، ہینڈ بیگ، سیڑھیوں پر یہاں وہاں پھینک دیں اور پھر واپسی پر جوتے تو موجود رہیں لیکن مسائل کا اسباب کوئی چرا کر لے گیا ہو.... ہر شخص کی خواہش تھی وہ عقیدت کی شمع جلائے، باہر کی آنکھیں موندھے، اندر کے پٹ کھولے مسجد میں داخل ہو.... جھولی پھیلائے، باہر کی آنکھیں موندھے، اندر کے پٹ کھولے مسجد میں داخل ہو.... جھولی پھیلائے، عاجزی سے پکارتا ہواخالی ذہن.... دل کا سنگھاسن جھاڑتا ہوا.... اس خواہش کی شدت کے باوجود پالتو کتے کی طرح ایک اور کیفیت بھی میرے ساتھ چلی آرہی تھی۔ میرے دھتکار نے اور در در کرنے کی اسے پروا نہ تھی۔ جب میں نے طلعت اور زینب کو پہلے دروازے پر چھوڑا تو ایک چھچھلتی نگاہ دور تک ڈالی.... اسی ہجوم میں شکیلہ تھی.... یانہیں تھی؟ پتہ نہیں پلاسٹک کا گلاس کہاں ہوگا.... ہوٹل کے ڈسٹ بن میں، کسی دکان کے آگے.... یہاں وہاں گر گیا یااتار دیا گیا۔
کچھ دیر بعد میں نے دیکھا مسجد کی جانب شربتی، نیم خنک نیم گرم ہوا ماتھا ٹیکنے چلی آرہی تھی۔لگتا تھا ہواکی بیمار روح شفا چاہتی تھی۔اس نے پتہ نہیں کتنے دشت کھنگالے، کتنی وادیوں سے گزری.... گرتی پڑتی، اٹھتی بیٹھتی.... ہوامیں نہ بین تھے نہ آہیں نہ مطالبہ تھا، نہ تجسس وہ تو بس امید سے سسکارتی، عاجزی سے کھسکتی، چپکے ہوئے آنسوﺅں کی نمی سے خنک، گم سم، نہ تو گرداب صورت پریشان نہ ہی بگولے کی طرح یقین بھری، بھنور جیسی.... جھنجھلاہٹ کو دبائے ہوئے ہلکے ہلکے دائروں میں، ننھی لہروں میں مسجد کی طرف پالاگن کو بڑھ رہی تھی اسے حضوری کا شوق سنگ مر مر کے فرشوں سے اٹھنے ہی نہ دیتا تھا۔ اس جانب جہاں بلڈوزر چلتے تھے.... مٹی کو پھولوں کی طرح اٹھا کر گنبد خضریٰ کی جانب اٹھتی اور گر جاتی.... گیسری زمزمیوں کے ادھر ادھر اس گلابی ہوا کے آگے پلاسٹک کے خالی گلاس لرزنے لگے۔ ستونوں کی جدل زرد پڑ جاتی، گلابی ہوا کے ہاتھوں میں کچھ نہیں تھا.... سوائے عاجزی کے، سوائے ایک سلام کے.... اسے خود معلوم نہیں تھا کہ وہ کسی بیماری سے شفا چاہتی ہے!.... کیوں ہر شام آتی ہے اور خالی ہاتھ لوٹ جاتی ہے! دوری اور مجبوری کا یہ سفر کیوں ختم ہو نہیں پاتا!
میرا جی چاہتا تھا کہ اپنے آپ کو کسی ستون سے باندھ لوں اور جب تک حضوری کا اذان نہ ہو، اپنے آپ کو باندھے رکھوں....میں اونچے اونچے رونا چاہتا تھا، لیکن مدینے کی پیازی ہوا نے میرے کان میںہولے سے کہا.... مجھے نہیں دیکھتا.... میں کتنے قرن سے یہاں آتی رہی ہوں اور بولی نہیں.... یہاں نہیں.... یہاں نہیں.... تم خانہ کعبہ میں جاکر اللہ کے دروازے سے لپٹ کر ٹکریں مار مار کر رونا.... یہاں عاجزی سے.... دیکھنا ہاتھ جڑے رہیں آواز نہ نکلے.... من کا کیا ہے!.... اسے تو غم کا دکھلاوا چاہئے.... ادب.... حد ادب.... گلابی ہوا.... ہونٹوں میں الحفیظ.... الحفیظ.... دباتی ننگے پاﺅں گھومتی رہی۔ میں ستون کے ساتھ سمٹا آنکھیں بند کئے سوچتا رہا۔
ایسے کیوں ہے آقا.... میرے مقدر میں بات کے بنتے ہی جدا ہوجانا کیوں لکھا ہے.... جب تک امریکہ میں سر توڑ جدوجہد کرتا رہا تب ہی تک وہ ملک مجھے راس آیا۔ محنت نے سر اٹھا کر اپنے متعلق سوچنے کی مہلت نہ دی۔ کوئی ایسا وقت نہ آیا کہ میں کرسی میں دھنس کر، سڑکوں پر چلتے ہوئے، کار میںڈرائیو کرتے ہوئے سوچ کو اپنے اندر ہلچل مچانے دیتا۔ لیکن جب سٹور خوب چلنے لگے، زینب اور طلعت اپنے آپ کو قریباً امریکن سمجھنے لگیں اور اپنی گوری نوکرانیوں کو جھڑکنے کے قابل ہوگئیں، میں تارکین وطن کے مسائل کو سلجھانے کے لئے انڈر گراﺅنڈ پولیٹیکل کام کرنے کا اہل ہو گیا تو یکدم امریکہ کی ہوا میرے لئے مسموم ہوگئی۔ پتہ نہیں کیوں مجھے احساس رہنے لگا کہ جو ملک تارکین کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا، میں اس کا دانہ پانی استعمال کرنے کے قابل نہیں۔ عزت نفس کا حصول زینب کے لئے مسئلہ بن جائے گا، ایسی تہذیب کے حوالے میں زینب کو نہیں کر سکتا.... امریکہ چھوڑنے سے پہلے میرے اندرمدھانی پھرتی رہی لیکن اوپر مکھن نہیں آیا۔کبھی شدت سے خیال آتا کہ پاکستان لوٹ جاﺅں؟ لیکن وہاں بھی عزت نفس کے لئے جان کے لالے پڑے رہتے تھے۔اپنا گھر، کار، بینک بیلنس، لباس، جانے کیا کچھ سیدھا کرنا پڑتا تھااور پھر سب سے بڑی بات دوسروں کو کمتر سمجھ کر بات بنتی تھی۔ انہیں کمتری کے کنوئیں میں دھکا دینے کے بعد ہی اپنے آپ کو منڈیر پر بٹھایا جاسکتا تھا....پندرہ سال امریکہ میں چھٹ بھیا رہنے کے بعد یہ خیال میرے لئے اور بھی جانکاہ تھا.... اتنی مدت بعد مجھے علم نہ تھا کہ اصل مسلمانی کیاہے.... مجھے پتہ نہ تھا کہ لوگ اسلام سے کیامراد لیتے ہیں.... میں یہ بھی بھول چکا تھاکہ خدا کہاں ہے اور مجھ ناچیز سے کیا چاہتا ہے.... مجھ میں وہ قوت نہ تھی کہ اس کی ذات دیکھے بغیر میں صرف اس کی صفات کے سہارے اس کی محبت میں مبتلا ہوجاﺅں۔
میری ساری سپردگی کے لئے صرف ایک مقام کا خواب رہ گیا تھا، جہاں میں اپنا جسم، اپنی روح ارپن کر سکتا تھا.... ستون کے ساتھ ٹیک لگائے میں سوچتا رہا.... مجھے زینب اور طلعت کے ساتھ کی ہوئی ایک جنگ یاد آنے لگی۔
”جدہ سے سیدھا.... پہلے خانہ کعبہ جائیں گے، وہاں عمرہ کر کے پھر بعد میں مدینہ شریف۔“
”پہلے مدینہ شریف میں دس دن قیام.... حاضری.... پھر خانہ کعبہ.... وہاں سے میں تم دونوں کو جدہ ایئرپورٹ پر چھوڑ آﺅں گا.... اور خود لوٹ جاﺅں گا.... مدینہ شریف۔“
”ابو! آپ ہمیشہ اپنی کیوں منواتے ہیں، یہ اچھی بات نہیں....“
زینت کی بات سن کر میں نے کئی الٹی سیدھی باتیں سخت انداز میںکہیں۔
”ابو! ہم امریکن ہیں، ہماری سوچ ڈیموکریٹک ہونی چاہئے۔“
”میں تم لوگوں کو تو فورس نہیں کر رہا!“
”آپ تو جانتے ہیں ابو ہم آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی.... کیاآپ Realize کرتے ہیں کہ آپ ہمارے لئے سب کچھ کتنا مشکل کر دیتے ہیں.... کیا آپ کو کبھی پتہ نہیں چلتا کہ ہم تو صرف آپ کی خاطر یہاں آئے ہیں ورنہ ہم دونوں تو اس بار چھٹیاں اٹلی میں گزارنا چاہتے تھے۔“
بچے عموماً جھوٹ نہیں بول سکتے.... شاید وہ مجھے صحیح مشورہ بھی دے رہی تھی.... اگر.... اگر میں پہلے خانہ کعبہ چلاجاتا تو شاید مجھے دور دو ریالین والی دکان کے آگے شکیلہ نظر نہ آتی۔ میرے اندر ایک اور خواہش نہ بھٹکنے لگتی.... میں پورے کا پورا.... پہلی بار سمندر میںجا گرتا۔میںساری دنیا کے ساتھ جھوٹ بول سکتا ہوں، ہاتھ میں تسبیح لئے ماتھے پر گٹھا ڈال کر دیوتا سمات مسجد آجاسکتا ہوں، لیکن اندر ایک پہاڑ سا جھوٹ لے کر زندہ نہیں رہ سکتا۔
جب میں امریکہ سے چلا تو میرا خیال تھا پاکستان میںابھی بھی ایسے بوڑھے ہوں گے جو کسی چارپائی چٹائی پر سب سے کٹ کر اپنا آپ حوالے کر دیتے ہوں گے۔ ایک نام کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیتے ہوں گے۔ کوئی ڈھنڈورا نہیں پیٹا جاتا۔اخبار میں لیٹر ٹو دی ایڈیٹر نہیں چھپتا، اخباروں میں ایسے اشتہار نہیں ملتے کہ فلاں بڈھے نے اپنا راستہ بدل لیا ہے.... ان لوگوں میں میرا شمار بھی ہو سکے گا۔
مجھے کیا پتہ تھا کہ میں پریم ساون میں نہا نہ سکوں گا.... کوئی طلسم، طاقت، ٹونا مسجد سے باہر بھی پھرتا ہے.... دوسری اندھی میں ڈوب مرنے کے لئے میںباہر نکل گیا۔
ہر طرف سلیپروں کے فرش سے ٹکرانے کا شور تھا۔ عورتیں دھڑادھڑ مسجد سے باہر نکل رہی تھیں۔ بڑے دروازے سے نکلتے ہی ہر عورت اپنا سلیپر فرش پر بڑی عجلت سے پھینکتی، پھر ان میں پاﺅں اڑستی.... اور باہر کا بہاﺅ اسے کھینچ لیتا۔
بازار.... بقالے، ریستوران.... ہوٹل۔
میں مسجد سے لوٹتے ہوئے ہجوم کو دیکھتا رہا۔ ان ہی میں کہیں شکیلہ تھی۔ زینب اور طلعت کے لئے منتظر کھڑے کھڑے مجھ شکاگو میں دیوان سٹریٹ پر اپنا سرور سٹور یاد آگیا۔ کبھی سٹور پر چاول خریدنے ایک ہسپانوی پروفیسر آیا کرتا۔اس میں کہیں موروں کا سیاہ لہو تھا۔ اس کا رنگ روغن مغربی لیکن بال افریقی لوگوں کی طرح سیاہ اور گھونگریالے تھے۔ بیسویں صدی میں مشرق وسطیٰ کو پیش آنے والے مسائل میں ہم دونوں کو بڑی دلچسپی تھی۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں قریب آگئے وہ جب بھی سٹور پر آتا، بڑی دیر تک کھڑا باتیں کرتا رہتا۔ ایک روز میں نے اس سے پوچھا ”پروفیسر! کیا بات ہے.... میں سوچتا رہتا ہوں کہ کئی بار کچھ لوگ بڑی پاکباز زندگی بسر کرتے ہیں، کڑی عبادتیں ان کا شعار ہوتی ہیں، دریاﺅں میں کھڑے ہو کر چلے کاٹنے میںانہیںلطف ملتا ہے، ساری عمر روزہ رکھتے ہیں لیکن نہ انہیں خدا ملتا ہے نہ وصال صنم.... اور کئی بار گناہگار آدمی بڑے معمولی عمل کے ساتھ، ہلکے سے سمرن کا سہارا لے کر سبھی کچھ حاصل کر لیتا ہے....“
سیاہ بالوں والے ہنس مکھ ہسپانوی نے مجھے آنکھ مار کر کہا.... ”سینور اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو انسان ہر دم یہ بھولتا ہے کہ خدا خالق ہے.... وہ نہ ہماری مرضی کے تابع ہے نہ ہی ہم انصاف پر اسے مجبور کر سکتے ہیں.... دوسرے....“
”ہاں ہاں دوسرے....“
اچانک گیبریل چپ ہو گیا۔
”دوسری بات بھی انسان کی بھول ہی ہے۔ انسان یہ بھی بھولتا ہے کہ سب لوگوں کا پیمانہ ایک نہیں اس لئے ان سے ایک سا سلوک بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ میں دیگ بھر پانی سماجاتا ہے، کچھ ساری عمر سمندر کنارے بیٹھے رہتے ہیں لیکن اپنے انگشتانے میں چمچ بھر پانی ہی بھر سکتے ہیں۔برادر سرور! انسان دنیا میں چاہے کچھ بھی کرے، کوئی دنیاوی کام.... محبت کا عمل ہوچاہے نفرت کا.... ہر کام میں وہ اپنے وجود کے پیمانے سے انکار نہیںکر سکتا.... پانچ واٹ کا بلب پانچ سو کی روشنی نہیں دے سکتا چاہے پیچھے سے کتنا ہی کرنٹ کیوں نہ آ رہا ہو!“
بڑی دیر میری نگاہیں عورتوں کے ہجوم میں شکیلہ کو تلاش کرتی رہیں، بظاہر میں طلعت اور زینب کا منتظر رہا۔ جب وہ دونوں باہر آئیں اور ہم ہوٹل کی جانب ساتھ ساتھ چلنے لگے تو طلعت نے پوچھا۔
”آپ چپ چپ ہی....“
”ابو امریکہ یاد آرہا ہے نا؟ پرومس! آرہا ہے نا؟“
بقالے، دکانیں، سٹور تیز نظروں سے کھنگالتیں وہ دونوں خوش نظر آتی تھیں۔ مدینے کی گلابی ہوا رک گئی تھی.... کسی اندھیرے کونے میں بیٹھ کر اپنے نہ پہنچ سکنے کی معذوری پر ہولے ہولے بل کھا رہی تھی۔
”ابو! آج ہمیں آنٹی شکیلہ مل گئیں مسجد میں.... ہائے ابو اتنی خوبصورت، اتنی خوبصورت میں نے تو آج تک اتنی خوبصورت کوئی پاکستانی نہیں دیکھی۔“
طلعت کے چہرے پر ایک تتر کھمبا بادل آیااور منتشر ہو گیا۔وہ رازداری میں ایک قدم پیچھے ہو کر بولی.... ”شکیلہ کو تو بلڈ کنسر ہو گیا ہے.... وہ علاج کے لئے شکاگو جارہی ہے....“
”کیسے.... کیوں؟“ بڑے احمقانہ طور پر میں نے پوچھا۔
”کچھ Details تو مجھے نہیں بتائیں لیکن بڑی افسردہ تھی۔ چھوٹے چھوٹے چار بچے ہیں۔اس کا ڈاکٹر میاں بھی ساتھ جا رہا ہے.... کہہ رہی تھی کوئی خاص نہیں ہے....“ طلعت کی آواز میں ہلکی سی خوشی تھی یا یہ صرف میرا احساس تھا!
جدہ ایئرپورٹ تک میں نے اپنے فیصلے کا ذکر اپنی بیوی اور بیٹی سے نہ کیا لیکن جب ایئرپورٹ پر پہنچ کر میں نے سارا سامان ٹیکسی سے اتروایا تو ماں بیٹی نے ایک دوسرے کو بامعنی نظروں سے دیکھا۔ وہ دونوں خاموش رہیں۔امیگریشن کے کاﺅنٹر پر جب میں تینوں امریکن پاسپورٹ اور بزنس کلاس کے تین امریکن پاسپورٹوں کے اندر رکھ کر پیش کئے تو زینب سے نہ رہا گیا۔
”ابو آپ ہمارے ساتھ واپس جارہے ہیں امریکہ.... ابو سچ!“
وہ کندھے سے لپٹ گئی۔
”ہاں زینب!Back to me thusala “
طلعت ٹھنڈے غصے اور گرم جوشی کے مابین چپ رہی۔
”کیسے ابو.... کیسے؟ آپ نے کیسے ارادہ بدل لیا.... کیسے ابو!“
”بس بیٹے.... آپ کسی چمچ میں دیگ برابر پانی نہیں ڈال سکتے.... جو سب کچھ چھوڑ کر اس چوکھٹ کے ہو رہتے ہیں، پتہ نہیں ان کا ظرف کیسا ہے۔ میں تو پانچ کینڈل کا بلب ہوں، پانچ سو واٹ کے بلب کی روشنی مجھ میںنہیں، مجھے اپنی حقیقت پتہ چل گئی ہے۔“
طلعت اب اس بات کی آرزو مند تھی کہ مدینہ شریف چلا جاﺅں۔
”آپ خواہ مخواہDiscourageہو رہے ہیں۔ ہماری وجہ سے آپ کی توجہ بٹی ہوئی ہے، ہمارے جانے کے بعد آپ کا دل لگ جائے گا۔ میرے خیال میں یوں ارادہ بدلنا بڑی بے ادبی ہے۔“
”حضوری ان کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی طلعت.... وہاں سے اجازت نہ ملے تو کچھ نہیں ہوسکتا.... میںبقیہ ساری عمر بھی یہاں گزار دوں تو اس چوکھٹ کے اندر نہیں جا سکتا۔“
طلعت اور میری آنکھوں میں پتہ نہیں کیوں آنسو آگئے۔ ہم تینوں خاموشی سے اوپر جا کر لاﺅنج میں بیٹھ گئے۔ ہمارے سامان کی دو ٹرولیاں تھیں اور ہمارے کندھے پر خیالات کا اتنا بوجھ تھا کہ اس کے تلے ہمارے زبان گھنٹہ بھر نہ کھلی۔پھر جب بارہ نمبر کے گیٹ وے سے طلعت اور میں اپنی اپنی ٹرولی گھسیٹتے اندر داخل ہوئے تو زینب ان کے ساتھ چلنے کی بجائے میرے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔اس نے بڑی محبت سے ایک ہاتھ میری بازو میں ڈال لیا۔
”ابو....!“
”جی....“
”ایک بات بتاﺅں آپ کو؟“ زینب نے اشتیاق سے کہا۔
”ضرور !“
”ابو جب میں نے خانہ کعبہ کا پہلا مینار دیکھا تو میں نے ایک دُعا کی تھی.... پتہ ہے جو دُعا بھی پہلی نظر پڑنے پر کی جائے، پوری ہوتی ہے....“
”ہاں بیٹا!“
”بتاﺅں آپ کو میں نے کیا دُعا مانگی تھی!“
”ہاں! ضرور“
”میںنے دُعاکی تھی، اللہ میاں ابو ہمارے چلے جائیں واپس امریکہ.... میں ساری عمر نمازیں پڑھوں گی.... شکرانہ کے طور پر....“ زینب نے سرگوشی کی۔
”اللہ میاں سے اتنے مشکل مشکل وعدے نہیں کیا کرتے، اچھا“
وہ گیٹ وے کے اندر یوں چل رہی تھی جیسے اس کے بیگوں میں قارون کا خزانہ ہو۔
ہم چپ چاپ بزنس کلاس سیٹوں پر بیٹھ گئے۔
”آپ چپ چپ ہیں!“ زینب نے آہستہ سے پوچھا۔
میں جواب نہ دے سکا۔
میں سوچ رہا تھا.... شاید اوپر جاکر دُعائیں ایک دوسری پر فائز کرتی ہیں جیسے بچوں کی وڈیو گیمز میں ہوتاہے اور پھر کامیاب دُعا کنی بچا کر اوپر اڑتی جاتی ہے اور قبول ہوجاتی ہے۔ کیا دعا کا تعلق بھی ظرف سے ہے؟ کچھ دُعائیں پانچ واٹ کی روشنی سے چمکتی ہیں اور کچھ پانچ سو کینڈل پاور سے؟ کچھ دیر کے بعد زینب میرے کندھے سے لگ کر سوگئی.... پہلی بار میں نے طلعت کی جانب دیکھا۔ اس کی گال پر ایک آنسو ٹکا ہوا تھا۔نہ جانے وہ احساس کے تناﺅ میں کس مقام پر کھڑی کیا دُعا مانگ رہی تھی!
میں نے ہاتھ اوپر کر کے ہوائی جہاز سے آنے والی ہوا کا رُخ طلعت کی جانب کر دیا۔ میں مدینے کی پیازی ہوا کو کم از کم بھول جانا چاہتا تھا۔

اس مصنف کے مزید افسانے پڑھنے کے لئے کلک کریں
  • کعبہ میرے پیچھے
  • قاضی نصیر عالم
  • حبیب اکرم
  • متفرق
  • طارق کلیم
  • اشفاق احمد
  • بانو قدسیہ
  • خادم حسین مجاہد
  • پطرس بخاری
  • ممتاز مفتی
  • وائس آف امریکہ


  • Email This Page
    Your Feedback
    © 2010 Friends Media . All Rights Reserved.