شمس الرحمٰن فاروقی کا انٹرویو { وائس آف امریکہ } گذشتہ دنوں امریکی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں واقع یونی ورسٹی آف ورجینیا نے اردو میلے کا انعقاد کیا، جس میں دنیا بھر سے اردو دانش وروں نے شرکت کی۔ اس میلے کی سب سے اہم بات جناب شمس الرحمٰن فاروقی کی شرکت تھی، جو بھارت سے خاص طور پر اس میں شریک ہونے کے لیے تشریف لائے تھے۔
جناب فاروقی صاحب نے تنقید نگاری سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ انھوں نے الہ آباد سے ’شب خون‘ کا اجرا کیا جسے جدیدیت کا پیش رو قرار دیا گیا۔ اس رسالے نے اردو مصنفوں کی دو نسلوں کی رہنمائی کی۔ فاروقی صاحب نے شاعری کی، پھر لغت نگاری اور تحقیق کی طرف مائل ہو گئے۔ اس کے بعد افسانے لکھےک کا شوق چرایا تو شب خون میں فرضی ناموں سے یکے بعد دیگرے کئی افسانے لکھے جنھیں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ تین سال قبل انھوں نے ایک ناول لکھا، ‘کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ جسے عوامِ خواص نے بہت سراہا۔ اس کے علاوہ انھیں عام طور پر اردو دنیا کے اہم ترین عروضیوں میں سے ایک گردانا جاتا ہے۔ غرض یہ اردو ادب کی تاریخ میں شمس الرحمٰن فاروقی جیسی کثیر پہلو شخصیت کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
وائس آف امریکہ نے اس موقعے کا فائدہ اٹھا کرجناب فاروقی صاحب کا انٹرویو کیا۔ فاروقی صاحب نے گفتگو کے دوران اردو زبان و ادب، عروض اور جدید اردو شاعری کے رحجانات کے علاوہ اپنی تخلیقات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
یہ انٹرویو آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی کا انٹرویو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے
شمس الرحمٰن فاروقی کا انٹرویو ۔ دیکھیں
اس مصنف کے مزید مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں
شمس الرحمٰن فاروقی کا انٹرویو
|
قاضی نصیر عالم حبیب اکرم متفرق طارق کلیم اشفاق احمد بانو قدسیہ خادم حسین مجاہد پطرس بخاری ممتاز مفتی وائس آف امریکہ
|